ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 500 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 500

اخلاق ہے۔میں بار بار کہتا ہوں کہ اگر قرآن شریف نہ ہوتا اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہ آئے ہوتے تو مسیح کی خدائی اور نبوت تو ایک طرف شاید کوئی دانش مند ان کوکوئی عالی خیال اور وسیع الاخلاق انسان ماننے میں بھی تأمل کرتا۔یہ قرآن شریف کا اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا احسان عام ہے تمام نبیوں پر اور خصوصاً مسیح پر کہ اس نے ان کی نبوت کا ثبوت خود دیا۔پھر ایک اور پہلو سے بھی مسیح کی خدائی کی پڑتال کرنی چاہیے کہ اخلاقی حالت تو خیر یہ تھی ہی کہ یہود کے معزز بزرگوں کو آپ گالیاں دیتے تھے لیکن جب ایک وقت قابو آگئے تو اس قدر دعا کی جس کی کوئی حد نہیں مگر افسوس سے دیکھا جاتا ہے کہ وہ ساری رات کی دعا عیسائیوں کے عقیدے کے موافق بالکل ردّ ہو گئی اور اس کا کوئی بھی نتیجہ نہ ہوا اگرچہ خدا کی شان کے ہی یہ خلاف تھا کہ وہ دعا کرتے۔چاہیے تو یہ تھا اپنی اقتداری قوت کا کوئی کرشمہ اس وقت دکھا دیتے جس سے بیچارے یہود اقرار اور تسلیم کے سوا کوئی چارہ ہی نہ دیکھتے مگر یہاں الٹا اثر ہو رہا ہے اور ع او خود گم است کرا رہبری کند کا معاملہ نظر آتا ہے۔دعائیں کرتے ہیں چیختے ہیں چلاتے ہیں مگر افسوس وہ دعا سنی نہیں جاتی اور موت کا پیالہ جو صلیب کی لعنت کے زہر سے لبریز ہے نہیں ٹلتا۔اب کوئی اس خدا سے کیا پائے گا جو خود مانگتا ہے اور اسے دیانہیں جاتا۔ایک طرف تو تعلیم دیتا کہ جو مانگو سو ملے گا دوسری طرف خود اپنی ناکامی اور نامرادی کا نمونہ دکھاتا ہے۔اب انصاف سے ہمیں کوئی بتائے کہ کسی پادری کوکیا تسلی اور اطمینان ایسے خدائے ناکام میں مل سکتا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کامل نمونہ ہیں غرض جس پہلو سے مسیح کا مقابلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بایںدعویٰ خدائی کیا جاوے تو صاف نظر آتاہے کہ مسیح کو آپؐسے کوئی نسبت ہی نہیں ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ایک عظیم الشان کامیاب زندگی ہے۔آپؐکیابلحاظ اپنے اخلاق فاضلہ کے اور کیابلحاظ اپنی قوت قدسی اور عقد ہمت کے اور کیا بلحاظ