ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 495 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 495

نے اُن کو فرشتے بنادیا اور دوسری طرف وہ عقلِ مجسّم ہوگئے۔۱ آنحضرتؐکی قوت قدسیہ کا کمال یہ کیسی بدیہی اور صاف بات ہے کہ ایک طبیب اگر ناقابل علاج مریضوں کو اچھا کر دے تو اس کو طبیب حاذق ماننا پڑے گااور جو اس پر بھی اس کی حذاقت کا اقرارنہ کرے اس کو بجز احمق اور نادان کے اور کیا کہیںگے۔اسی طرح پر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لاکھوں مریضانِ گناہ کو اچھا کیا حال آنکہ ان مریضوں میں سے ہر ایک بجائے خود ہزار ہا قسم کی روحانی بیماریوں کا مجموعہ اور مریض تھا۔جیسے کوئی بیمار کہے کہ سر درد بھی ہے، نزول ہے، استسقا ہے، وجع المفاصل ہے، طحال ہے وغیرہ وغیرہ تو جو طبیب ایسے مریض کا علاج کرتا ہے اور اس کو تندرست بنا دیتا ہے اس کی تشخیص اور علاج کو صحیح اور حکمی ماننے کے سواچارہ نہیں ہے۔ایسا ہی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کو اچھا کیا اُن میں ہزاروں روحانی امراض تھے۔جس جس قدر اُن کی کمزوریوں اور گناہ کی حالتوں کا تصور کر کے پھر اُن کی اسلامی حالت میں تغیّر اور تبدیلی کو ہم دیکھتے ہیں۔اسی قدر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت اور قوت قدسی کا اقرار کرنا پڑتا ہے۔ضدّ اور تعصّب ایک الگ امر ہے جو اپنی تاریکی کی وجہ سے سچائی کے نور کو دیکھنے کی قوت کو سلب کر دیتا ہے۔لیکن اگر کوئی دل انصاف سے خالی نہیں اور کوئی سرعقلِ صحیح سے حصہ رکھنے والا ہے تو اس کو صاف اقرار کرنا پڑےگا کہ آپؐسے بڑھ کر عظیم الشان پاکیزگی کی طرف تبدیلی کرا دینے والا انسان دنیا میں نہیں گزرا۔اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُـحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ۔اب بالمقابل ہم پوچھتے ہیں کہ مسیح نے کس کا علاج کیا؟ اُنہوں نے اپنی روحانیت اور عقد ہمت اور قوتِ قُدسی کا کیا کرشمہ دکھایا؟ زبانی باتیں بنانے سے تو کچھ فائدہ نہیں جب تک عملی رنگ میں اُن کا نمونہ نہ دکھایا جاوے جب کہ اس قدر مبالغہ اُن کی شان میں کیا گیا ہے کہ بایں ضعف و ناتوانی اُن کو خدائی کا منصب دے دیا گیا ہے۔تو چاہیے تو یہ تھا کہ اُن کی عام رحمت اپنا اثر دکھاتی اور اقتداری قوت کوئی نیا نمونہ پیش کرتی کہ گناہ کی