ملفوظات (جلد 2) — Page 493
اور اِدھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ کی طرف دیکھتے ہیں تو اُنہوں نے اپنی جانیں دے دینی آسان سمجھیں بجائے اس کے کہ اُن میں غداری کا ناپاک حصہ پایا جاتا۔یورپین مورخوں تک کو اس امر کا اعتراف کرنا پڑا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں جو اُنس وفاداری اور اطاعت اپنے ہادی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی اس کی نظیر کسی دوسرے نبیوں کے متبعین میں نہیں ملتی ہے۔خصوصاً مسیح علیہ السلام تو اس مقابلہ میں بالکل تہی دست ہیں۔اب جبکہ اس قدر غلو اُن کی شان میں کیا گیا ہے اور باوجود کمزوریوں کی ان مثالوں اور واقعات کے ہوتے ہوئے جو انجیل میں موجود ہیں اُن کو خدا بنایا گیا ہے۔ان کی قوتِ قدسی اور جذب وکشش کا یہ نمونہ پیش کیاگیا ہے کہ وہ چند حواریوں کو بھی درست نہ کر سکے تو اور اُن سے کیا اُمید ہوسکتی ہے۔عیسائی جب حواریوں کی اعتقادی اور عملی کمزوریوں کا کوئی جواب نہیں دے سکتے تو یہ کہہ دیتے ہیں کہ مسیحؑ کے بعد اُن میں قوت اور طاقت آگئی تھی اور وہ کامل نمونہ ہوگئے تھے مگر یہ جواب کیسا مضحکہ خیز اور عذرِ گناہ بد تر از گناہ کا مصداق ہے کہ چراغ کی موجودگی میں تو کوئی روشنی نہیں۔چراغ کے بجھ جانے کے بعد روشنی ہوگئی۔کیا خوب!!! ایک نبی کے سامنے تو وہ پاک صاف نہ ہو سکے۔اس کے بعد ہو گئے؟ اس سے تو معلوم ہوا کہ مسیح اپنی قوتِ قُدسی کے لحاظ سے اور بھی کمزور اور ناتواں تھا۔معاذاﷲ یہ ایک نحوست تھی کہ جب تک حواریوں کے سامنے رہی وہ پاک نہ ہو سکے اور جب اُٹھ گئی تو پھر رُوح القدس سے معمور ہو گئے۔تعجب!!! بہت سے انگریزمصنفوں نے بھی اِس مضمون پر قلم اُٹھایا ہے اور رائے ظاہر کی ہے کہ مسیح نے ایک گروہ پایا تھا جو پہلے سے توریت کے مقاصد پر اطلاع پاچکے تھے اور فقیہوں فریسیوں سے خدا کی باتیں سنتے تھے۔اگر و ہ راست باز اور پاک باز ہوتے تو کوئی تعجب کی بات نہ تھی اور ۱۴ سو برس تک لگاتار ان میں وقتاً فوقتاً نبی اور رسول آتے رہے جو خدا کے احکام اور حدود سے انہیں اطلاع دیتے رہے۔گویا اُن کے نُطفہ میں رکھا ہوا تھا کہ وہ خدا کو مانیں اور خدا کے حدود کی عظمت کریں اور بدکاریوں سے بچیں۔پھر کیونکر ممکن تھا کہ وہ اس تعلیم سے جو مسیح انہیں دینا چاہتا تھا بے خبر ہوتے۔