ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 480 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 480

غرض دنیا میں جوچیز انہیں عزیز ترین ہوسکتی تھی اس پر آپؐکے وجود کو مقدم کر لیا۔اچھے بھلے آرام سے بیٹھے تھے۔برادری کے تعلقات اور احباب کے تعلقات سے اپنے خیال کے موافق لطف اٹھارہے تھے۔مگر اس پاک وجود کے ساتھ تعلق پیدا کرتے ہی وہ سارے رشتہ اور تعلق اُن کو چھوڑنے پڑے اور اُن سے الگ ہونے میں اُنہوں نے ذرا بھی تکلیف محسوس نہ کی بلکہ راحت اور خوشی سمجھی۔اب غور کرنا چاہیے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ کیا چیز تھی جس نے ان لوگوں کو اپنا ایسا گرویدہ بنا لیا کہ وہ اپنی جانیں دینے کے لیے تیار ہو گئے۔اپنے تمام دنیوی مفاد اور منافع اور تمام قومی اور ملکی تعلقات کو قطع کرنے کے لیے آمادہ ہوئے۔نہ صرف آمادہ بلکہ انہوں نے قطع کر کے اور اپنی جانوں کو دے کر دکھا دیا کہ وہ آپؐکے ساتھ کس خلوص اور ارادت سے ہوئے تھے۔بظاہر آپ کے پاس کوئی مال ودولت نہ تھا جو ایک دنیا دار انسان کے لیے تحریص اور ترغیب کا موجب ہو سکے۔خود آپ نے ہی یتیمی میں پرورش پائی تھی تو وہ اوروں کو کیا دکھا سکتے تھے۔انبیاء کو حق اور کشش دی جاتی ہے میں کہتا ہوں کہ بےشک آپؐکے پاس کوئی مال و دولت اور دنیوی تحریص وترغیب کا ذریعہ نہ تھا اور ہرگز نہ تھا لیکن آپؐکے پاس وہ زبردست چیزیں جو حقیقی اور اصلی، موثر اور جاذب ہیںتھیں۔وہی اُنہوں نے پیش کیں اور انہوں نے ہی دنیا کو آپؐکی طرف کھینچا۔وہ تھیں حق اور کشش۔یہ دو چیزیں ہی ہوتی ہیں جن کو انبیاء علیہم السلام لے کر آتے ہیں۔جب تک یہ دونوں موجود نہ ہوں انسان کسی ایک سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا اور نہ پہنچا سکتا ہے۔حق ہو کشش نہ ہو کیا حاصل؟کشش ہو لیکن حق نہ ہو اس سے کیا فائدہ؟ بہت سے لوگ ایسے دیکھے گئے ہیں اور دنیا میں موجود ہیں کہ اُن کی زبان پر حق ہوتا ہے مگر دیکھا گیا ہے کہ وہ حق مفید اور موثر ثابت نہیں ہوتا۔کیوں؟ وہ حق صرف اُن کی زبان پر ہے اور دل اس سے آشنا نہیں اور وہ کشش جو دل کی قبولیت کے بعد پیدا ہوتی ہے اُس کے پاس نہیں ہے۔اس لیے وہ جو کچھ کہتا ہے جس اوپرے دل سے کہتا ہے اسی طرح پر اُس کا اثر ہوتا ہے۔سچی کشش، حقیقی جذب اور واقعی تاثیر اس وقت پیدا ہوتی ہے جب اس حق کو جسے وہ بیان کرتا