ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 474 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 474

پوشیدہ نہیں ہے کہ کس طرح پر وہ نا محرم نوجوا ن عورتوں سے ملتا تھااور کس طرح پر ایک بازاری عورت سے عطر ملواتا تھااور یسوع کی بعض نانیوں اور دادیوں کی جو حالت بائبل سے ثابت ہوتی ہے وہ بھی کسی سے مخفی نہیں۔ان میں سے تین جو مشہور ومعروف ہیں ان کے نام یہ ہیں بنت سبع، راحاب، تمر، اور پھر یہودیوںنے اس کی ماںپر جو کچھ الزام لگائے ہیں وہ بھی ان کتابو ںمیں درج ہیں۔ان سب کو اگر اکٹھاکر کے دیکھیں تو اس کا یہ قول کہ مجھے نیک نہ کہو اپنے اندر حقیقت رکھتاہے اور یہ فروتنی یا انکسار کے طور پر ہر گزنہ تھا جیسابعض عیسائی کہتے ہیںاب میں پوچھتاہوںکہ جس شخص کے اپنے ذاتی چال چلن کا یہ حال ہواور حسب نسب کایہ، توکیا خداایسا ہی ہواکرتاہے یہ با تیں اللہ تعا لیٰ کے تقد س کے صر یح خلاف ہیں خدا اپنی قد رت سے کبھی الگ نہیں ہوا۔اور یسوع کی نسبت صا ف معلو م ہے کہ پورا ناتواں اور بے علم تھا۔پھر یسو ع کی راست بازی میں کلام ہے پہلے کہا کہ میںداؤدکا تخت قائم کر نے کے وا سطے آیا ہو ں اور حوار یوںکو کپڑے بیچ کرتلوا ریں خر ید نے کی بھی تعلیم دی لیکن جب دا ل گلتی نظرنہ آئی تو اس کو یہ کہہ کر ٹا ل دیا کہ آسما نی با دشا ہت ہے کیا داؤد کا تخت آسما نی تھا۔اصل یہ ہے کہ ابتدا میںاسے خیا ل نہ تھا کہ کو ئی مخبر ی کی جاوے گی لیکن آخر جب مخبری ہوئی اور عدالتو ں میںطلبی ہوئی تو آنکھ کھلی اورآسمانی سلطنت پراسے ٹا لا۔بھلااس قسم کے ضعف اور بے علمی اور ایسے چال چلن کے ہوتے ہوئے کہیںخدابننا کہیں بیٹا کہلانا اور انسا ن ہونا یہ سا ری باتیں ایک ہی و قت میں جمع ہو جائیں کس قدر حیرت کو بڑھا نے والی ہیں۔پولو س کا کردار با قی رہاپولو س کا اجتہاد یااُس کے اقوال۔جن لوگوں نے پولوس کے چال چلن پر غور کی ہے اور جیسا کہ اس کے بعض خطوط کے فقرات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہر مذہب والے کے رنگ میں ہو جاتا تھا۔تمہیں خوب معلوم ہے اور اس کے حالات میں آزاد خیال لوگوں نے لکھا ہے کہ اچھے چال چلن کا آدمی نہ تھا۔بعض تاریخوں سے پایا جاتا ہے کہ وہ ایک کاہن کی لڑکی پر عاشق تھا اور ابتدا میں اُس نے بڑے بڑے دُکھ عیسائیوں کو دیئے اور بعد میں جب کوئی راہ اُسے نہ ملی اور اپنے مقصد میں کامیابی کا کوئی ذریعہ اُسے نظر نہ آیا تو اس نے ایک خواب بنا کر