ملفوظات (جلد 2) — Page 473
چہ جائیکہ خدا یا خدا کابیٹا ہے۔تدبیر عالم اورجزا وسزا کے لیے عالم الغیب ہونا ضروری ہے اور یہ خدا کی عظیم الشان صفت ہے مگر میںابھی دکھاآیاہو ں کہ اُسے قیامت تک کاعلم نہیں اور اتنی بھی اسے خبر نہ تھی کہ بے موسم انجیر کے درخت کے پاس شدت بھوک سے بے قرار ہو کر پھل کھانے کو جاتاہے اور درخت کو جسے بذات خود کوئی اختیار نہیں ہے کہ بغیر موسم کے بھی پھل دے سکے بد دعا دیتا ہے۔اوّل تو خدا کو بھوک لگنا ہی تعجب خیز امرہے اور یہ خوبی صرف انجیلی خداہی کوحاصل ہے کہ بھوک سے بے قرار ہوتا ہے پھر اس پر لطیفہ یہ بھی ہے کہ آپ کو اتنا علم بھی نہیں ہے کہ اس درخت کو پھل نہیں ہے اورپھر اگر یہ علم نہ تھا توکاش کوئی خدائی کرشمہ ہی وہاںدکھاتے اور بے بہار ے پھل اس درخت کو لگادیتے تادُنیاکے لیے ایک نشان ہوجاتا مگر اس کی بجائے بد دعادیتے ہیں۔اب ان ساری باتوںکے ہوتے یسوع کو خدا بنایاجاتاہے۔میںآپ کو سچی خیر خواہی سے کہتا ہوں کہ تکلّف سے کچھ نہیں ہوسکتا۔ایک شخص ایک ہی وقت میںاپنی دو حیثیتیں بتاتاہے۔باپ بھی اور بیٹابھی۔خدابھی اور انسان بھی۔کیاایساشخص دھوکا نہیں دیتا ہے؟ انجیل کے جن مقامات کا آپ ذکر کرتے ہیں وہاں سیاق سباق پر نظر کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کی خدائی کے ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں کیونکہ وہ تو اس کی انسانیت ہی کو ثابت کرتے ہیںاور انسانیت کے لحاظ سے بھی اسے عظیم الشان انسانوں کی فہرست میں داخل نہیں کرتے جب اسے نیک کہا گیا تو اس نے انکار کیا۔اگر اس کی روح میں بقول عیسائیاں کامل تطہّر اور پاکیزگی تھی پھر وہ یہ بات کیوں کہتا ہے کہ مجھے نیک نہ کہو۔علاوہ بریں یسوع کی زندگی پر بہت سے اعتراض اور الزام لگائے گئے ہیں اور جس کا کوئی تسلی بخش جواب آج تک ہماری نظر سے نہیں گزرا۔ایک یہودی نے یسوع کی سوانح عمری لکھی ہے اور وہ یہاں موجود ہے۔اس نے لکھا ہے کہ یسوع ایک لڑکی پرعاشق ہو گیا تھااور اپنے استاد کے سامنے اس کے حسن وجمال کا تذکرہ کر بیٹھا تواستاد نے اُسے عاق کر دیا اور انجیل کے مطالعہ سے جو کچھ مسیح کی حالت کاپتہ لگتا ہے وہ آپ سے بھی