ملفوظات (جلد 2) — Page 470
پادریوںنے خیالی اورفرضی طور پر مسیح کی خدائی کے ثبوت کے لیے بڑے ہاتھ پائوںمارے ہیں مگر آج تک ایک بھی رسالہ یا تحریر ان کی میری نظر سے نہیں گزری اور کوئی پادری میں نے نہیں دیکھا جس نے مسیح کے معجزات کے چہرہ سے تالاب کے قصہ کے داغ کو دور کیا ہو اور جب تک انجیل میں یہ قصہ درج ہے یہ داغ اٹھ نہیں سکتا۔میں بار بار آپ کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی صفات کو دیکھو۔رہاپو لوس جس کی باتوں سے خدائی نکا لی جاتی ہے۔وہ اپنے چال چلن کے لحاظ سے بجائے خود غیر معتبراور اس کے لیے مسیح کی کوئی پیشگوئی نہیں۔پھرآپ ہی بتائیں کہ ایک دانش مند اسے خدا کس طرح مان کے ایسے خدا کی کوئی پرستش کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔مسیح کی زندگی اس کی پوری ناکامی اور نا مرادی کی تصویر ہے۔آج وہ زندہ ہو تے تو ان کو وہ نشانات دیکھ کر جو اِس مسیح کے ہاتھ پر صادر ہو رہے ہیں شرمندہ ہونا پڑتا۔کیا یہی قبولیت دعا ہوتی ہے کہ ساری رات چلّاتا رہا اور کسی نے بھی نہ سنا اور آخری ساعت میں خدا کا شکوہ کرتا ہوا رخصت ہوا کہ اِیْلِیْ اِیْلِیْ لِمَاسَبَقْتَنِیْ۔خدا نے مجھے مامور کرکے بھیجا اور تائیدی نشانات دکھائے اس وقت جو خد انے مجھے مامور کر کے بھیجا ہے اورجو نشانات میری تائید میںظاہر ہوئے ہیں ان کی نظیر تو پیش کرو مثلاً یہی ڈگلس کا مقدمہ جو دین دار پادریوں کی کوشش اور ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری پھیر دینے کی تعلیم دینے والوںکی طرف سے کیا گیا۔کئی سو آدمی اس بات کے گواہ موجود ہیں کہ کس طرح پر قبل ازوقت کل واقعات سے اطلاع دی گئی اورخدا نے کس طرح ہر قسم کی ذلت سے محفوظ رکھ لیا۔پہلے امرتسر میں جب یہ مقدمہ دائر کیاگیا تو ڈپٹی کمشنر نے چالیس ہزار کی ضمانت کے ساتھ وارنٹ جاری کر دیا مگر خدا کی قدرت دیکھو کہ وہ اسے جاری نہ کر سکا وہ اسی کی کتاب میںرہ گیا۔پیچھے جب اسے یہ معلوم کرایا گیا کہ ایسے وارنٹ کااجرا ناجائز ہے تو اس نے گو رداسپور تار دی کہ وارنٹ روکا جاوے مگر وہاں پہنچا ہی نہ تھا۔آخر یہ مقدمہ چلا اور عیسائیوںنے ہر طرح سے میرے سزادلانے میں سعی کی۔مگر خدا نے اپنی قدرت کا نشان دکھایا اور میری اہانت چاہنے والوںکی اہانت کی۔ڈگلس صاحب نے نہایت ہی عزّت واحترام سے مجھے بُلایا اور کرسی دی حالانکہ مجھے ان باتوں کی ایک ذرّہ بھر بھی پروا