ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 469 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 469

رونق کو دور کر دیتا ہے اور مقابلۃً جب ہم انبیاء سابقین کے معجزات کو دیکھتے ہیں تو وہ کسی حالت میں مسیح کے معجزات سے کم نہیں بلکہ بڑھ کر ہیں کیونکہ بائبل کے مطالعہ کرنے والے خوب جانتے ہیں کہ پہلے نبیوں سے مُردوں کا زندہ ہونا ثابت ہے بلکہ بعض کی ہڈیوں سے مُردوں کا لگ کر بھی زندہ ہونا ثابت ہے حالانکہ مسیح کے خیالی معجزات میں ان باتوں کا کوئی اثر نہیں ہے۔مسیح کی لاش نے کوئی مُردہ زندہ نہیں کیا پھر بتاؤ کہ مسیح کو کون سی چیز خدا بنا سکتی ہے؟کیا پیشگو ئیاں؟ ان کی حقیقت میںنے پہلے بتادی ہے کہ مسیح کی پیشگوئیاں پیشگوئی کا رنگ ہی نہیںرکھتی ہیںجو باتیں پیشگوئی کے رنگ میںمندرج ہیں وہ ایسی ہیں کہ ایک معمولی آدمی بھی اُن سے بہتر باتیںکہہ سکتا ہے اور قیافہ شناس مدبّر کی پیشگوئیاں اُن سے بدرجہابڑھی ہوئی ہوتی ہیں۔میںعلی الاعلان کہتا ہوں کہ اگر اس وقت مسیح ہوتے تو جس قدر عظیم الشان تائید ی نشان پیشگوئیوں کے رنگ میں اب خدا نے میرے ہاتھ پر صادر کئے ہیں وہ ان کو دیکھ کر شرمندہ ہوجاتے اور اپنی پیشگو ئیوں کا کہ زلزلے آئیںگے، مری اور قحط پڑیںگے یا مرغ بانگ دے گا کبھی مارے ندامت کے نام نہ لیتے۔پھر آپ ہی ہمیںبتائیںکہ کس طرح پر ہم مسیح کو مانیں کہ وہ خدا تھا۔خدائی کا دعویٰ ان میں نہیں۔صحف سابقہ کی پیشگوئیوں کے اپنے متعلق ہونے کا انہوں نے کوئی دعویٰ نہیں کیا اور نہ اپنے متعلق ہونے کا کوئی ثبوت دیا۔پھر سلب صفات ِخدائی کو ہم ان میںدیکھتے ہیں۔قیامت کی بابت انہیں اقرار ہے کہ مجھے اس کاعلم نہیں، باپ اور بیٹے کے باوجود متحد فی الوجود ہونے کے ایک کا عالم دوسرے کاجاہل ہونا قابلِ لحاظ ہے۔تقدّس کا یہ حال کہ خود کہتا ہے کہ مجھے نیک نہ کہو۔صرف باپ ہی کو نیک ٹھہراتا ہے۔پھر یہ اختلاف بھی باپ بیٹے کی عینیت کے خلاف ہے۔صرف ابن کا لفظ ان کی خدائی کو ثابت نہیں کر سکتا کیونکہ حقیقت اور مجازمیں باہم تفریق کرنے کے ہم مجاز نہیں ہو سکتے کہ کہہ دیں کہ یہاں تو حقیقت مراد ہے اور فلاں جگہ مجاز ہے۔یہی لفظ یا اس سے بھی بڑھ کر جب دوسرے انبیاء اور راست بازوں اور قاضیوں پر بو لا جاوے تو وہ نرے آدمی ہیں اور مسیح پر بولا جاوے تو وہ خود خدا اور ابن بن جاویں۔یہ تو انصاف اور راستی کے خلاف ہے اور پھر گویا نئی شریعت اور نئی کتاب بنانا ہے۔اس سے کوئی فائدہ نہیں۔