ملفوظات (جلد 2) — Page 450
سے پیش آوے اور کوشش کرتا رہے کہ ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔یہ کہہ کر آپ گھر میں تشریف لے گئے۔۱ ۲۴؍دسمبر۱۹۰۱ء مامور من اللہ کا نشان حضرت مسیح موعودؑ۔مامور اگر ان امور کی جواس پر کھولے جاتے ہیں، اشاعت نہ کرے تو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ مخلوق پر ظلم کرتا ہے اور خود اللہ تعالیٰ کے سپرد کردہ فرض کو انجام نہیں دیتا۔مامور کا ایک یہ بھی نشان ہے کہ وہ اشاعت حق سے نہیں رکتا اور ہمیںافسوس ہوتا ہے جب انجیل میں ایسے فقرا ت دیکھتے ہیں جن میںمسیح اپنے آپ کوچھپانے اور کسی پر ظاہر نہ کرنے کی تعلیم اپنے شاگردوںکودیتا ہے۔مامور من اللہ میںایک شجاعت ہوتی ہے اس لیے وہ کبھی بھی اپنے پیغام پہنچانے اوراشا عت حق میںنہیںڈرتا۔شہادت حقہ کا چھپانا سخت گناہ ہے پس میںکیو نکراس حقیقت کو چھپا سکتا ہوں جو خدا نے مجھ پر کھولی ہے۔میرے نزد یک یہ طریق بہت ہی مناسب ہے جو یہ اس طر ح پر مرتّب ہو جا یا کر ے۔آپ نے اب دوبا ر ہ سن لیا ہے۔اس پر غور کریں اور جو کچھ آ پ کو شک با قی ہو بے شک پو چھ لیں۔مسٹر عبدالحق۔میں اس پر مز ید غور کرو ں گا۔حضر ت مسیح مو عودؑ۔میںآپ کی اس با ت کو بہت پسند کرتا ہوں کہ جلد ی نہیں کی۔آپ بے شک چار پانچ روز تک اس پرکافی غو رکر لیں۔مسٹر عبد الحق۔میںنے آج ایک سوا ل قرآ ن شر یف کی ضرور ت پر سوچا تھا مگر وہ اس تقریر میں آچکا ہے میںایک یہ سوا ل بھی پو چھنا چاہتا ہوںکہ یہ جوکہا جا تا ہے کہ انجیل میںتحریف ہو گئی ہے۔اگر کوئی یہ پوچھے کہ اصل کہا ں ہے تو اس کا کیا جوا ب ہے۔حضر ت مسیح مو عودؑ۔یہ سوال آپ کا ایک نیا سوا ل ہے اور پہلے سوا لو ں سے الگ ہے۔میں چاہتا ہوں کہ تداخل نہ ہو۔میں اس سوا ل کا جواب بیان کروں گا مگر اوّل مناسب یہی ہے کہ آپ اپنے