ملفوظات (جلد 2) — Page 449
تھا تو وہ مجھے تین میل تک چھوڑنے آئے تھے۔(ایڈیٹر۔سلیم الفطرت لوگ حضرت مسیح موعودؑ کی شفقت اور ہمدردی پر غور کریں اور اس جوش کا اندازہ کریں جو اس کی فطرت میں کسی روح کو بچا لینےکے لئے ہے کیا تین میل تک جانا محض ہمدردی ہی کے لئے نہ تھاورنہ میاں سراج الدین سے کیا غرض تھی اگر فطرت سلیم ہو تو آپ کی اس جوش ہمدردی ہی سے حق کا پتہ پالے ہمارے لئے ایسا سچاجوش رکھنے والے تجھ پر خدا کا سلام ؎ سلامت بر تو اے مرد سلامت ) اور پسینہ آیا ہوا تھا۔حضر ت مسیح موعو دؑ۔اس پسینہ سے اس نے یہ مراد لی کہ گویا جواب نہیں آیاافسوس !آپ اس سے پوچھتے تو سہی کہ پھر وہ یہاں رہ کر نمازیں کیوں پڑھتا تھا اور کیا اس نے نہیں کہا تھا کہ میری تسلی ہو گئی میرے سامنے ہوتو میں اس کو حلف دے کر پوچھوں۔سامنے ہونے سے کچھ تو شرم آجاتی ہے۔منشی عبدالحق صاحب۔میں نے نمازوں کا حال پوچھا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ ہاں میں پڑھا کرتا تھا اور آخر میں نے کہہ دیا تھا کہ میں کسی سرد مقام پر جا کر فیصلہ کروں گا اور یہ بھی مسٹر سراج الدین نے کہا تھا کہ مرزا صاحب شہرت پسند ہیں۔میں نے چار سوال پوچھے تھے ان کا جواب چھاپ دیا۔حضر ت اقدسؑ۔اس میں تو شہرت پسندی کی کوئی بات نہیں ہم کیوں حق کو چھپاتے اگر چھپاتے تو گنہ گار ٹھہرتے اور معصیت ہوتی۔خدا نے جب مجھے مامور کر کے بھیجا ہے تو پھر میں حق کا اظہار کروں گااور جو کام میرے سپرد ہوا ہے اسے مخلوق کو پہنچائوں گا اور اس بات کی مجھے کوئی پروا نہیں کہ کوئی شہرت پسند کہے یا کچھ اور۔آپ ان کو پھر خط لکھیں کہ وہ یہاں کچھ دن اور رہ جائیں۔الغرض ان باتوں میں آپ مکان کے قریب پہنچ گئے۔اور اس وقت حضرت اقدس نے منشی عبدالحق صاحب کو مخاطب کر کے یہ فرمایا کہ آپ ہمارے مہمان ہیں اور مہمان آرام وہی پا سکتا ہے جو بے تکلف ہو پس آپ کو جس چیز کی ضرورت ہو مجھے بلا تکلف کہہ دیں۔اور پھر جماعت کو مخاطب کر کے فرمایا کہ دیکھو! یہ ہمارے مہمان ہیں اور تم میں سے ہر ایک کو مناسب ہے کہ ان سے پورے اخلاق