ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 442 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 442

ہم سچے ہیں یا نہیں؟ الغرض اس قسم کی جزئیات کویہ لوگ بد نما صورت میںپیش کر کے دھوکا دیتے ہیں۔آپ اپنے اعتراضوں کے انتخاب میں ان امور کو مد نظر رکھیں جو میں نے آپ کو بتادئیے ہیں۔دین کا معاملہ بہت بڑا اہم اور نازک معاملہ ہے اس میں بہت بڑی فکر اور غور کی ضرورت ہے اس میں وہ پہلو اختیار کرنا چاہیے جو مشترک اُمّت کاہے۔یہ بات ہمیشہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ کوئی ایسی بات قابل تسلیم نہیںہو سکتی جس کے نظائر موجود نہ ہو ں مثلاًایک شخص کہے کہ ایک صندوق میں ایک ہزار روپیہ رکھاتھا اور وہ جادو کے ذریعہ ہوا ہو کر اُڑگیا تو اُسے کو ن مانے گا۔اسی طرح پر عیسائیوں کے معتقدات کا حال ہے۔آپ اپنے اعتراض مرتب کر کے پیش کریں اور انشاء اللہ ہم جواب دیں گے۔تثلیث اور کفّارہ منشی عبدالحق صاحب۔اگرآپ تثلیث اور کفارہ کو توڑ کر دکھا دیں گے تو میں شاید اور کچھ نہ پوچھوں گا۔حضرت مسیح موعودؑ۔تثلیث اور کفارہ کی تردید کے دلائل تو ہم انشاء اللہ تعالیٰ اتنے بیان کریںگے کہ جو ان کے ابطال کے لیے کافی سے بڑھ کر ہوں گے مگر میری رائے میں جو ترتیب میںنے آپ کو اشارہ کی ہے اس پر چلنے سے بہت بڑافائدہ ہوگا۔اس وقت میں خلط کرنا نہیں چاہتا لیکن میں مختصر اور اشارہ کے طور پر اتناکہناضروری سمجھتا ہوں کہ اس وقت تین قومیں یہود ،مسلمان اور عیسائی موجود ہیں۔ان میںسے یہودی اور مسلمان بالاتفاق توحید پر ایمان لاتے ہیں لیکن عیسائی تثلیث کے قائل ہیں۔اب ہم عیسائیوں سے پوچھتے ہیں کہ اگر واقعی تثلیث کی تعلیم حق تھی اور نجات کایہی اصل ذریعہ تھا تو پھر کیا اندھیر مچاہوا ہے کہ توریت میں اس تعلیم کا کوئی نشان ہمیں نہیںملتا۔یہودیوںکے اظہار لےکر دیکھ لو۔اس کے سوا ایک اور امر قابل غور ہے کہ یہودیوں کے مختلف فرقے ہیں اور بہت سی باتوں میں ان میں باہم اختلاف ہے لیکن توحید کے اقرار میں ذرا بھی اختلاف نہیں اگر تثلیث واقعی مدار نجات تھی تو کیا سارے کے سارے فرقے ہی اس کو فراموش کر دیتے اور ایک آدھ فرقہ بھی اس پر قائم نہ رہتا۔کیا یہ تعجب خیز امر نہ ہو گا کہ ایک عظیم الشان قوم جس میں ہزاروں ہزار فاضل ہر زمانہ میں موجود رہے اور برابر مسیح علیہ السلام کے وقت تک جن میں نبی آتے رہے ان کو ایک ایسی تعلیم سے