ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 441 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 441

ناواقف لوگوں اورآزاد طبع جوانوں کے سامنے پیش کر دیتے ہیں۔پس آپ کو مناسب ہے کہ آپ اعتراض کرتے وقت اس امر کابڑا بھاری لحاظ کریں کہ اسے گناہ اور محل اعترا ض ٹھہرائیں جو خد ا نے گناہ قرار د یا ہو نہ وہ جو کہ پادری تجو یزکر یں۔میںسولہ یا سترہ سال کی عمر سے ان سے ملتا تھا مگر اس نور کی وجہ سے جو خدا نے مجھے دیا تھا میں ہمیشہ سمجھ لیتا تھا کہ یہ دھو کا دیتے ہیں۔۱ تعدّدِازواج اسی طرح پر تعدادِ ازواج کے مسئلہ پر اعتراض کر دیتے ہیں۔مگر مجھے سخت افسوس سے کہناپڑتا ہے کہ اِن نادانو ں نے یہ اعتراض کرتے وقت اس بات پر ذرا بھی خیال نہیں کیا کہ اس کا اثر خود اُن کے خداوند پر کیا پڑتا ہے۔مجھے سخت رنج آتاہے جب میںدیکھتا ہوں کہ پادریوں کے اس اعتراض نے حضرت عیسیٰ پر سخت حملہ کیا ہے کیوںکہ جس کے گھر میںحضرت مریم گئی تھیں اس کی پہلے بیوی بھی تھی پھر یہ اولاد کیسی قرار دی جاوے گی۔علاوہ ازیں جبکہ مریم نے اور اس کی ماںنے یہ عہد خدا کے حضور کیا ہوا تھا کہ اس کا نکا ح نہ کروںگی پھر وہ کیا آفت اور مشکل پیش آئی تھی جو نکاح کر دیا۔بہتر ہوتاکہ روح القدس کابچہ مقدس ہیکل میں ہی جنتی۔بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ انہوںنے اپنے گھر میںنگاہ نہیںکی۔ورنہ اس قوم کا فرض تھا کہ سب سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قبول کرنے والے یہی ہوتے کیونکہ ان کے ہاں نظائرموجود تھے مگر جیسے اس وقت کو انہوں نے کھودیا آج بھی یہ مسیح موعود کوقبول نہیںکرتے حالانکہ ایلیا کا قصہ اُن میں موجود ہے اور اسی پر مسیح کی صداقت کا سارا معیار ہے۔اگر مسیح واقعی مُردوں کو زندہ کرتے تھے تو کیوں پھونک مار کر ایلیا کو زندہ نہ کر دیا تا یہود ابتلاسے بچ جاتے اور خود مسیح کو بھی ان تکالیف اور مشکلات کا سامنا نہ ہوتا جو ایلیا کی تاویل سے پیش آئیں۔ایک یہودی کی کتاب میرے پاس موجود ہے۔وہ اس میں صاف لکھتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ ہم سے مسیح کے انکارکا سوال کرے گا تو ہم ملاکی نبی کی کتاب سامنے رکھ دیںگے کہ کیا اس میں نہیں لکھا کہ مسیح سے پہلے ایلیا آئے گا۔اس میں یہ کہاں ہے کہ یوحنا آئے گا۔اس پر اس نے بڑی بحث کی ہے اور پھر لوگوں کے سامنے اپیل کرتا ہے کہ بتاؤ