ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 437 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 437

حضر ت اقدس۔یہ تو اور بھی ہمت کا کام ہے میرے نزدیک بہتر اور مناسب طریق جو آپ کے لئے مفید ہو سکتا ہے اب یہ ہے کہ آپ ان اعتراضات کو جو اسلام پر رکھتے ہیں اور اہم ہیں سلسلہ وار لکھ لیں اور ایک ایک کر کے پیش کریں ہم انشاء اللہ تعالیٰ جواب دیتے رہیں گے اور جس جواب سے آپ کی تسلی نہ ہو اسے آپ بار بار پوچھ لیں اور صاف صاف کہہ دیں کہ اس سے مجھے اطمینان نہیں ہوا مگر ان اعتراضوں میں اس بات کا لحاظ رکھ لیں کہ وہ ایسے ہوں کہ کتب سابقہ میں اس قسم کے اعتراضوں کا نام و نشان نہ ہو ورنہ تضییع اوقات ہی ہو گا جب آپ اعتراض کر چکیں گے پھر ہم آپ کو اسلام کی خوبیاں بتائیں گے کیونکہ یہ دو ہی کام ہیں ایک آپ کریں اور ہمیں مدد دیں۔دوسرا ہم خود کریں گے۔اسلام کی جنگیں دفاعی نوعیت کی تھیں تبدیل مذہب کے دو باعث ہوتے ہیں سب سے بڑا باعث وہ جزئیات ہوتی ہیں جن کو غلط فہمی اور غلط بیانی سے کچھ کا کچھ بنا دیا جاتا ہے اور اصول مذہب کو اس کے مقابلہ میں بالکل چھوڑ دیا جاتا ہے جیسے مثلاً اسلام کی بابت جب عیسائی لوگ کسی سے گفتگو کرتے ہیں تو اسلامی جنگوں پر کلام کرنے لگتے ہیں حالانکہ خود ان کے گھر میں یشوع او ر موسیٰ کے جنگوں کی نظیریں موجود ہیں اور جب ان کا اسلامی جنگوںسے مقابلہ کیا جاوے تو وہ اسلامی جنگوں سے کہیںبڑھ کر مورد ِاعتراض ٹھہر جاتے ہیں کیونکہ ہم یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ اسلامی جنگ بالکل دفاعی جنگ تھے اور ان میں وہ شدت اور سخت گیری ہر گزنہ تھی جو موسیٰ اور یشوع کے جنگوںمیں پائی جاتی ہے۔اگر وہ یہ کہیں کہ موسیٰ اور یشوع کی لڑائیا ں عذاب الٰہی کے رنگ میں تھیں۔تو ہم کہتے ہیں کہ اسلامی جنگوں کو کیوں عذاب ِالٰہی کی صورت میں تسلیم نہیںکرتے۔موسوی جنگوں کو کیا ترجیح ہے بلکہ ان اسلامی جنگوں میں تو موسوی لڑائیوں کے مقابلہ میں بڑی بڑی رعایتیں دی گئی ہیں۔اصل بات یہی ہے کہ چونکہ وہ لوگ نوامیسِ الٰہیہ سے ناواقف تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر موسیٰ علیہ السلام کے مخالفو ں کے مقابلہ میں بہت بڑا رحم فرمایا کیونکہ وہ غفور و رحیم ہے۔پھر اسلامی جنگوںمیں موسوی جنگوںکے مقابلہ میں یہ بڑی خصوصیت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خادموں نے مکّہ والوں