ملفوظات (جلد 2) — Page 423
ہوتی ہے۔بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ دنیا کے لوگوں نے ان کو نہایت حقارت کی نگاہ سے دیکھا انہیں ذلیل سمجھا اور بخیالِ خویش ذلیل کیا لیکن آسمان پر اُن کی عزّت اور تعریف ہوتی ہے۔وہ خدا تعالیٰ کے حضور راست باز ہوتے ہیںاور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ دنیا ان کی تعریف کرتی ہے۔ہر طرف سے واہ واہ ہوتی ہے مگر آسمان اُن پر لعنت کرتا ہے۔خدا اور اس کے فرشتے اور مقرب اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔تعریف نہیں کرتے۔مگر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زمین و آسمان دونوں جگہ میں تعریف کیے گئے اور یہ فخر اور فضل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو ملاہے۔جس قدر پاک گروہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مِلا وہ کِسی اور نبی کو نصیب نہیں ہوا۔یُوں تو حضرت موسٰی کو بھی کئی لاکھ آدمیوں کی قوم مِل گئی مگر وہ ایسے مستقل مزاج یا ایسی پاک باز اور عالی ہمّت قوم نہ تھی جیسی صحابہ کی تھی رضوان اللہ علیہم اجمعین۔قوم موسیٰ کا یہ حال تھا کہ رات کو مومن ہیں تو دن کو مُرتد ہیں۔آنحضرتؐاور آپ کے صحابہؓ کا حضرت موسیٰ اور اس کی قوم کے ساتھ مقابلہ کرنے سے گویا کُل دُنیا کا مقابلہ ہوگیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو جماعت ملی وہ ایسی پاک باز اور خدا پرست اور مخلص تھی کہ اس کی نظیر کسی دنیا کی قوم اور کسی نبی کی جماعت میں ہرگز پائی نہیں جاتی۔احادیث میں اُن کی بڑی بڑی تعریفیں آئی ہیں۔یہاں تک فرمایا کہ اَللّٰہُ اَللّٰہُ فِیْ اَصْحَابِیْ اور قرآن کریم میں بھی ان کی تعریف ہوئی يَبِيْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّقِيَامًا (الفرقان:۶۵)۔موسیٰ کی جماعت جن مشکلات اور مصائب طاعون وغیرہ کے نیچے آئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیار کردہ جماعت اس سے ممتازاور محفوظ رہی۔اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی اور انفاس طیبہ اور جذب اِلَی اللہ کی قوت کا پتہ لگتاہے کہ کیسی زبردست قوتیں آپ کو عطا کی گئی تھیں جو ایسا پاک اور جانثار گروہ اکٹھاکر لیا۔یہ خیال بالکل غلط ہے جو جاہل لوگ کہہ دیتے ہیں کہ یوںہی لوگ ساتھ ہو جاتے ہیں۔جب تک ایک قوت جذب اورکشش کی نہ ہو کبھی ممکن نہیں ہے کہ لوگ جمع ہوسکیں۔میرامذہب یہی ہے کہ آپ کی قوت قدسی ایسی تھی کہ کسی دوسرے نبی کو دنیا میں نہیں ملی۔اسلام کی ترقی کا راز یہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت جذب بہت زبر دست تھی اور پھر آپ کی باتوں میں