ملفوظات (جلد 2) — Page 422
حصہ گناہ کا اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔بعض موٹے گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں اور بعض اوسط درجہ کے گناہوں میں اور بعض باریک در باریک قسم کے گناہوں کا شکار ہوتے ہیں جیسے بخل، ریاکاری یا اور اسی قسم کے گناہ کے حصّوں میں گرفتار ہوتے ہیں۔جب تک ان سے رہائی نہ ملے انسان اپنے گم شدہ انوار کو حاصل نہیں کر سکتا۔اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سے احکام دیئے ہیں۔بعض اُن میں سے ایسے ہیں کہ ان کی بجاآوری ہر ایک کو میسر نہیں ہے مثلاً حج، یہ اس آدمی پر فرض ہے جسے استطاعت ہو پھر راستہ میں امن ہو پیچھے جو متعلقین ہیں اُن کے گزارہ کا بھی معقول انتظام ہو اور اسی قسم کی ضروری شرائط پوری ہوں تو حج کر سکتا ہے۔ایسا ہی زکوٰۃ ہے یہ وہی دے سکتا ہے جو صاحبِ نصاب ہو۔ایسا ہی نماز میں بھی تغیرات ہو جاتے ہیں۔کلمہ طیّبہ کی حقیقت لیکن ایک بات ہے جس میں کوئی تغیّر نہیں، وہ ہے لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ۔اصل یہی بات ہے اور باقی جو کچھ ہے وہ سب اس کے مکمّلات ہیں۔توحید کی تکمیل نہیں ہوتی جب تک عبادات کی بجا آوری نہ ہو۔اس کے یہی معنے ہیں کہ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ کہنے والا اس وقت اپنے اقرار میں سچا ہوتا ہے کہ حقیقی طور پر عملی پہلو سے بھی وہ ثابت کر دکھائے کہ حقیقت میں اللہ کے سوا کوئی دوسرا محبوب و مطلوب اور مقصود نہیں ہے۔جب اس کی یہ حالت ہو اور واقعی طور پر اس کا ایمانی اور عملی رنگ اس اقرار کو ظاہر کرنے والا ہو تو وہ خدا تعالیٰ کے حضور اس اقرار میں جھوٹا نہیں۔ساری مادی چیزیں جل گئی ہیں اور ایک فنا اُن پر اس کے ایمان میں آگئی ہے۔تب وہ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ منہ سے نکالتا ہے اور مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ جو اس کا دوسرا جزو ہے وہ نمونہ کے لیے ہے کیونکہ نمونہ اور نظیر سے ہر بات سہل ہو جاتی ہے۔انبیاء علیہم السلام نمونوں کے لیے آتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جمیع کمالات کے نمونوں کے جامع تھے کیونکہ سارے نبیوں کے نمونے آپؐمیں جمع ہیں۔محمدؐ جامع جمیع کمالات آپؐکا نام اسی لیے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اس کے معنی ہیں نہایت تعریف کیا گیا۔محمد وہ ہوتا ہے جس کی زمین و آسمان پر تعریف