ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 421 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 421

جب انسان اسباب پر تکیہ ا ور توکل کرتا ہے تو گویا خدا تعالیٰ کی ان صفات کا انکار کرتا ہے اور ان اسباب کو ان صفات سے حصہ دیتا ہے اور ایک اور خدا اپنے لیے ان اسباب کاتجویز کرتا ہے چونکہ وہ ایک پہلو کی طرف جھکتا ہے اس سے شرک کی طرف گویا قدم اُٹھاتا ہے۔جو لوگ حکّام کی طرف جھکے ہوئے ہیں اور اُن سے انعام یا خطاب پاتے ہیں اُن کے دل میں اُن کی عظمت خدا کی سی عظمت داخل ہو جاتی ہے۔وہ اُن کے پرستار ہو جاتے ہیں اور یہی ایک امر ہے جو توحید کا استیصال کرتا ہے اور انسان کو اُس کے اصلی مقصد سے اُٹھا کر دُور پھینک دیتا ہے۔پس انبیاء علیہم السلام یہ تعلیم دیتے ہیں کہ اسباب اور توحید میںتناقض نہ ہونے پاوے بلکہ ہر ایک اپنے اپنے مقام پر رہے اور مآل کار توحید پر جا ٹھہرے۔وہ انسان کو یہ سکھانا چاہتے ہیں کہ ساری عزتیں سارے آرام اور حاجات براری کا متکفّل خدا ہی ہے۔پس اگر اس کے مقابل میں کسی اور کو بھی قائم کیا جاوے تو صاف ظاہر ہے کہ دو ضدوں کے تقابل سے ایک ہلاک ہو جاتی ہے۔اس لیے مقدم ہے کہ خدا تعالیٰ کی توحید ہو۔رعایت اسباب کی جاوے اسباب کو خدا نہ بنایا جاوے۔اسی توحید سے ایک محبت خدا تعالیٰ سے پیدا ہوتی ہے جب کہ انسان یہ سمجھتا ہے کہ نفع و نقصان اسی کے ہاتھ میں ہے۔محسن حقیقی وہی ہے۔ذرّہ ذرّہ اُسی سے ہے۔کوئی دوسرا درمیان نہیں آتا۔جب انسان اس پاک حالت کوحاصل کرلے تو وہ موحّد کہلاتا ہے۔غرض ایک حالت توحید کی یہ ہے کہ انسان پتھروں یا انسانوں یا اور کسی چیز کو خدا نہ بناوے بلکہ ان کو خدا بنانے سے بیزاری اور نفرت ظاہرکرے اور دوسری حالت یہ ہے کہ رعایت اسباب سے نہ گزرے۔موحِّد اپنے نفس اور وجود کی نفی کرتا ہے تیسری قسم یہ ہے کہ اپنے نفس اور وجُود کے اغراض کو بھی درمیان سے اُٹھادیا جاوے اور اس کی نفی کی جاوے۔بسا اوقات انسان کے زیر نظر اپنی خوبی اور طاقت بھی ہوتی ہے کہ فلاں نیکی مَیںنے اپنی طاقت سے کی ہے۔انسان اپنی طاقت پر ایسا بھروسہ کرتا ہے کہ ہر کام کو اپنی ہی قوت سے منسوب کرتا ہے۔انسان موحّد تب ہوتا ہے کہ جب اپنی طاقتوں کی بھی نفی کردے۔لیکن اب اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان جیسا کہ تجربہ دلالت کرتا ہے عموماً کوئی نہ کوئی