ملفوظات (جلد 2) — Page 420
بالکل رعایت اسباب کی نہ کی جاوے ضروری ہوگاکہ تمام قوتوں کو جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کی ہیں بالکل بے کار چھوڑ دیا جاوے اور ان سے کوئی کام نہ لیا جاوے اور اُن سے کام نہ لینا اور ان کو بےکار چھوڑ دینا خدا تعالیٰ کے فعل کو لغو اورعبث قرار دینا ہے۔جو بہت بڑا گناہ ہے۔پس ہمارا یہ منشا اور مذہب ہرگز نہیں کہ اسباب کی رعایت بالکل ہی نہ کی جاوے بلکہ رعایتِ اسباب اپنی حدتک ضروری ہے۔آخرت کے لیے بھی اسباب ہی ہیں۔خدا تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری اور بدیوں سے بچنا اور دوسری نیکیوں کو اختیار کرنا اسی لیے ہے کہ اس عالَم اور دوسرے عالَم میں سکھ ملے توگویا یہ نیکیاں اسباب کے قائم مقام ہیں۔اسی طرح پر یہ بھی خدا تعالیٰ نے منع نہیں کیا کہ دنیوی ضرورتوںکے پورا کرنے کے لیے اسباب کو اختیار کیا جاوے۔نوکری والا نوکری کرے، زمیندار اپنی زمینداری کے کاموں میں رہے، مزدور مزدوریاں کریں تا وہ اپنے عیال واطفال اور دوسرے متعلّقین اوراپنے نفس کے حقوق کو ادا کر سکیں۔پس ایک جائز حد تک یہ سب درست ہے اور اس کو منع نہیں کیا جاتا لیکن جب انسان حد سے تجاوز کرکے اسباب ہی پر پُورا بھروسہ کرلے اور سارا دارومداراسباب ہی پر جا ٹھہرے تو یہ وہ شرک ہے جو انسان کو اُس کے اصلی مقصد سے دور پھینک دیتا ہے مثلاً کوئی شخص یہ کہے کہ اگر فلاں سبب نہ ہوتا تو مَیںبھوکا مر جاتا یا اگر یہ جائید اد یافلاں کام نہ ہوتا تو میرا بُرا حال ہو جاتا، فلاں دوست نہ ہوتا تو تکلیف ہوتی۔یہ امور اس قسم کے ہیں کہ خدا تعالیٰ ان کو ہرگز پسند نہیں کرتا کہ جائیداد یا اور اسباب واحباب پر اس قدر بھروسہ کیا جاوے کہ خدا تعالیٰ سے بکلّی دُور جا پڑے۔یہ خطرناک شرک ہے جو قرآن شریف کی تعلیم کے صریح خلاف ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَ فِي السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ ( الذاریٰت : ۲۳) اور فرمایا وَ مَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ (الطلاق: ۴) اور فرمایا مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا وَّ يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ(الطلاق:۳،۴) اور فرمایا وَ هُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ (الاعراف: ۱۹۷)۔قرآن شریف اس قسم کی آیتوں سے بھرا پڑا ہے کہ وہ متقیوں کا متولّی اور متکفّل ہوتا ہے توپھر