ملفوظات (جلد 2) — Page 418
میں آپ کے حضور اقرار کرتا ہوں۔رَضِیْنَا بِا للہِ رَبًّا وَبِکَ مَسِیْحًا وَّ مَھْدِیًّا۔اس تقریر کے ساتھ ہی حضرت اقدسؑ نے بھی اپنی تقریر ختم کر دی۔۱ ۴؍دسمبر ۱۹۰۱ء بعد نماز مغرب کی ایک تقریر۔ایک بہت ہی ضروری امر ہے جو میں بیان کرنا چاہتا ہوں اگر چہ میری طبیعت بھی اچھی نہیں ہے لیکن کل نواب صاحب جو جانے والے ہیں۔اس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ میں بیان کردوں تاکہ وہ بھی سن لیں اورجماعت کے دوسرے لوگ بھی سن لیں اور وہ یہ ہے کہ انبیاء کی بعثت کی اصل غرض تمام انبیاء علیہم السلام جو دنیا میںآئے ہیں اگر چہ انہوں نے جو احکام دنیا کو سنائے وہ مبسوط اور مُطَوَّل تھے اور بہت کچھ جزئیات بھی بیان کر دیں اور تمام امور جو توحید ، تہذیب، معاملات اور معاد کے متعلق ہوتے ہیں غرض جس قدر امور انسان کو چاہیے ان سب کے متعلق وہ ہر قسم کی ہدایتیں اور تعلیمیں لوگوں کودیا کرتے تھے۔باوجود ان ساری جزئی تعلیموں اور ہدایتوں کے ہر ایک نبی کی اصل غرض اور مقصد یہ رہا ہے کہ لوگ گناہوں سے نجات پاکر اور ہر قسم کی بدیوں اور بدکاریوں سے بکلّی نفرت کر کے خدا ہی کے لیے ہو جاویں۔انسانی پیدائش کی اصل غرض اور مقصد بھی یہی ہے کہ وہ خدا ہی کے لیے ہو جائے۔اس لیے انبیاء علیہم السلام کی بعثت کی غرض اسی مقصد کی طرف انسان کو رہبری کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ اپنی گم گشتہ متاع اور مقصد کو پھر حاصل کرلے۔گناہ اگر چہ بہت ہیں اور ان کے بہت سے شعبے اور شاخیں ہیں۔یہاں تک کہ ہرادنیٰ قسم کی غفلت بھی گناہ میں داخل ہے لیکن عظیم الشان گناہ جو اس مقصدِ عظیم کے بالمقابل انسان کو اصل مقصد سے ہٹانے کے لیے پڑا ہوا ہے وہ شرک ہے۔انسان کی پیدائش کی اصل غرض اور مقصد یہ ہے کہ وہ خدا ہی کے لیے ہو جائے اور گناہ اور اس کے محرکات سے بہت دور رہے اِس لیے کہ جُوں جُوں بدقسمت انسان اس میں مبتلا ہوتا ہے اُسی قدر اپنے اصلی مدّعا