ملفوظات (جلد 2) — Page 397
اگر آفتاب دھندلا اور تاریک ہے تو اس کی روشنی پر کوئی کیا فرق کر سکے گا او رکیا یہ کہہ کر فخر کرے گا کہ اس میں روشنی نہیں بلکہ تاریکی ہے؟۱ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوتِ قدسی کا فیضان اس طرح پر قرآن شریف کی تاثیرات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی کی برکات کے لئے یہ اعتقاد کرنا کہ وہ ایک وقت خاص اور ایک شخص خاص ہی کے لئے تھے آئندہ کے لئے ان کا سلسلہ بند ہو گیا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت بے ادبی اور توہین ہے اور نہ صرف قرآن شریف اور آنحضر ت کی بے ادبی بلکہ اللہ تعالیٰ کی پاک ذات پر اعتراض کرنا ہے۔یاد رکھو کہ نبیوں کا وجود اس لئے دنیا میں نہیں آتا کہ وہ محض ریا کاری اور نمود کے طور پر ہو اگر ان سے کوئی فیض جاری نہیں ہوتا اور مخلوق کو روحانی فائدہ نہیں پہنچتا تو پھر یہی ماننا پڑے گا کہ وہ صرف نمائش کے لئے ہیں اور ان کا عدم وجود معاذ اللہ برابر ہے مگر ایسا نہیں وہ دنیا کے لئے بہت سی برکات اور فیوض کے باعث بنتے ہیں اور ان سے ایک خیر جاری ہوتی ہے جس طرح پر آفتاب سے ساری دنیا فائدہ اٹھاتی ہے اور اس کا فائدہ کسی خاص حدتک جا کر بند نہیں ہوتا بلکہ جاری رہتا ہے اسی طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض وبرکات کا آفتا ب ہمیشہ چمکتا ہے اور سعادت مندوں کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ ( اٰل عـمران:۳۲) یعنی ان کو کہہ دو کہ اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بن جائو تو میری اطاعت کرو اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا آپ کی سچی اطاعت اور اتباع انسان کو اللہ تعالیٰ کا محبوب بنا دیتی ہے اور گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہوتی ہے۔پس جب کہ آپ کی اتباع کامل اللہ تعالیٰ کا محبوب بنا دیتی ہے پھر کوئی وجہ نہیں ہو سکتی کہ ایک محبوب اپنے محبّ سے کلام نہ کرے۔اگر یہ مانا جاوے کہ اللہ تعالیٰ ایک شخص کو باوجود محبوب بنانے کے پھر بھی اس سے کلام نہیں کرتا تو یہ محبوب معاذ اللہ اَ بْکَمْ ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ باطل معبودوں کے لئے