ملفوظات (جلد 2) — Page 394
صفت رحمانیت رحمانیت اور رحیمیت میں یہی فرق ہے کہ رحمانیت دعا کو نہیں چاہتی مگر رحیمیت دعا کو چاہتی ہے اور یہ انسان کے لئے ایک خلعت خاصہ ہے اور اگر انسان انسان ہو کر اس صفت سے فائدہ نہ اٹھاوے تو گویا ایسا انسان حیوانات بلکہ جمادات کے برابر ہے۔یہ صفت بھی تمام مذاہب باطلہ کے رد کے لئے کافی ہے کیونکہ بعض مذہب اباحت کی طرف مائل ہیں اور وہ مانتے ہیں کہ دنیا میں ترقیات نہیں ہوتی ہیں آریہ جبکہ اس صفت کے فیضان سے منکر ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کاملہ کا کب قائل ہو سکتاہے، سید احمد خان مرحوم نے بھی دعا کا انکار کیا ہے اور اس طرح پر وہ فیض جو دعا کے ذریعہ انسان کو ملتا ہے اس سے محروم رکھا ہے۔صفت مالکیت يَوْمِ الدِّيْنِ پھر اللہ تعالیٰ کی چوتھی صفت مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ( الفاتـحۃ:۴) بیان کی ہے۔جو لوگ قیامت کے منکر ہیں اس میں ان کا ردّ موجود ہے اس کی تفصیل قرآن میں بہت جگہ آئی ہے۔اللہ تعالیٰ کی اس صفت اور رحیمیت میں فرق یہ ہے کہ رحیمیت میں دعا اور عبادت کے ذریعہ کامیابی کی راہ پیدا ہوتی اور ایک حق ہوتا ہے مگر مالکیت يَوْمِ الدِّيْنِ وہ حق اور ثمرہ عطا کرتی ہے۔اور فقرہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ ( الفاتـحۃ:۵) تمام باطل معبودوں کی تردید کرتا ہے اور مشرکین کا ردّ اس میں موجود ہے کیونکہ پہلے اللہ تعالیٰ کی صفات کاملہ کو بیان فرمایا ہے اس سے مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ یعنی صفات کاملہ والے خدا جو رب العالمین، رحمٰن، رحیم ، مالک یوم الدین ہے تیری ہی عبادت ہم کرتے ہیں۔یہ ہر چہار صفات جو اُمُّ الصّفات کہلاتی ہیں معبودان باطلہ میں کہاں پائی جاتی ہیں جو لوگ پتھروں یا درختوں یا حیوانات اور چیزوں کی پرستش کرتے ہیں ان میں ان صفات کو ثابت نہیں کر سکتے۔خدا تعالیٰ کے فیوض اور برکات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے اور اسی طرح اِيَّاكَ نَسْتَعِیْنُ میں ان لوگوں کا ردّ ہے جو دعا اور اس کی قبولیت کے منکر ہیں اور اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ