ملفوظات (جلد 2) — Page 388
پیشگوئیاں تھیں جو اَب پوری ہو رہی ہیں اوربہت ابھی باقی ہیں جو آئندہ پوری ہوں گی۔منجملہ ان پیشگوئیوں کے جو اِس وقت پوری ہو رہی ہیں اس سلسلہ کی پیشگوئی ہے جو قرآن شریف کے اوّل سے شروع ہو کر آخر تک چلی گئی ہے۔چنانچہ سورۂ فاتحہ میں صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتـحۃ:۷) کہہ کر مسیح موعود کی پیشگوئی فرمائی اور پھر اس سورت میں مغضوب اور ضالین دو گروہوں کا ذکر کر کے یہ بھی بتا دیا کہ جب مسیح موعود آئے گا تو اس وقت ایک قوم مخالفت کرنے والی ہو گی جو مغضوب قوم یہودیوں کے نقش قدم پر چلے گی۔اور ضالین میںیہ اشارہ کیا کہ قتل دجّال اور کسرِصلیب کے لئے آئے گا کیونکہ مغضوب سے یہود اور ضالین سے نصاریٰ بالاتفاق مراد ہیں اور آخر قرآن شریف میں بھی شیطان کا ذکر کیا جو اصل دجّال ہے اور ایسا ہی سورۂ نور کی آیت استخلاف میں مسیح موعود خاتم الخلفاء کی پیشگوئی کی اور اسی طرح سورۂ تحریم میں صراحت کے ساتھ ظاہر کیا کہ اس امت میں بھی ایک مسیح آنے والا ہے کیونکہ جب مومنوں کی مثال مریم کی سی ہے تو اس امت میںکم ا ز کم ایک تو ایسا شخص ہو جو مریم صفت ہو اور مریم میں نفخ روح ہو کر مسیح پیدا ہو توا س مومن میں جب نفخ روح ہو گا تو خو د ہی مسیح ہو گا۔۱ ان پیشگوئیوں کا ظہور جو اس سلسلہ کی صورت میں ہوا ہے تو کیا یہ چھوٹی سی بات ہے۔یہ سلسلہ بہت بڑی پیشگوئی کا پورا ہونا ہے جو تیرہ سو سال پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لبوں پر جاری ہوئی۔اس قدرمدت دراز پہلے خبر دینا یہ قیافہ شناسی اوراٹکل بازی نہیں ہو سکتی اور پھر یہ پیشگوئی اکیلی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ہزاروں وہ آیات و نشانات ہیں جو اس وقت کے لئے پہلے سے بتا دئیے گئے تھے اور ان سب کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے خود یہاں ہزاروں نشانات کا سلسلہ جاری کر دیا۔چنانچہ کئی سو پیشگوئیاں پوری ہو چکی ہیں جو قبل از وقت ملک میں شائع کی گئیں اور پھر وہ اپنے وقت پر پوری ہوئی ہیں جن کو ہمارے مخالف بھی جانتے ہیں۔اب کیا قرآن، قرآن کریم کا معجزہ اور اس کی پاک تعلیم کا نتیجہ اور اثر نہیں ہے؟ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی اور تاثیر انفاس کے ثمرات نہیں؟ ماننا پڑے گاکہ یہ سب کچھ آپ ہی کے طفیل ہے کیونکہ یہ مسلّم بات ہے۔