ملفوظات (جلد 2) — Page 382
ہمارے سامنے اس وقت ایسی نہیں ہے جس پر عمل کرنے و الا یہ دعویٰ کر سکے کہ اس کے ثمرات اور برکات اور فیوض سے مجھے حصہ دیا گیا ہے اور میں ایک آیۃ اللہ ہو گیا ہوں لیکن ہم خدا تعالیٰ کے فضل و کرم قرآن شریف کی تعلیم کے ثمرات اور برکات کا نمونہ اب بھی موجود پاتے ہیں اور ان تمام آثار اور فیوض کو جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اتباع سے ملتے ہیں اب بھی پاتے ہیں چنانچہ خدا تعالیٰ نے اس سلسلہ کو اسی لئے قائم کیا ہے تاوہ اسلام کی سچائی پر زندہ گواہ ہو اور ثابت کرے کہ وہ برکات اور آثار اس وقت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل اتباع سے ظاہر ہوتے ہیں جو تیرہ سوبرس پہلے ظاہر ہوتے تھے چنانچہ صدہا نشان اس وقت تک ظاہر ہو چکے ہیں اور ہر قوم اور مذہب کے سرگروہوں کو ہم نے دعو ت کی ہے کہ وہ ہمارے مقابلہ میں آکر اپنی صداقت کا نشان دکھائیں مگرایک بھی ایسا نہیں کہ جن سے اپنے مذہب کی سچائی کا کوئی نمونہ عملی طور پر دکھائے۔ہم خدا تعالیٰ کے کلام کو کامل اعجاز مانتے ہیں اور ہمارا یقین اور دعویٰ ہے کہ کوئی دوسری کتاب اس کے مقابل نہیں ہے مَیں علیٰ وجہ البصیرۃ کہتا ہوں کہ قرآن شریف کاکوئی امر پیش کریں وہ اپنی جگہ پر ایک نشان اور معجزہ ہے۔مثلاً تعلیم ہی کو دیکھیں تو وہ عظیم الشان معجزہ نظر آتی ہے او ر فی الواقع معجزہ ہے ایسے حکیمانہ نظام اور فطری تقاضوں کے موافق واقع ہوئی ہے کہ دوسری تعلیم اس کے ساتھ ہرگز ہرگز مقابلہ نہیں کر سکتی قرآن شریف کی تعلیم پہلی ساری تعلیموں کی متمم اور مکمل ہے۔اس وقت صرف ایک پہلو تعلیم کا دکھا کر میں ثابت کر تا ہوں کہ قرآن شریف کی تعلیم اعلیٰ درجہ پر واقع ہوئی ہے اور معجزہ ہے مثلاً توریت کی تعلیم (حالات موجودہ کے لحاظ سے کہو یا ضروریات وقت کے موافق) کا سارا زور قصاص اور بدلہ پر ہے۔جیسے آنکھ کے بدلہ آنکھ اور دانت کے بدلہ دانت اور بالمقابل انجیل کی تعلیم کا سارا زور عفو، صبر اور درگزر پر تھا اور یہاں تک اس میں تاکید کی کہ اگر کوئی ایک گال پر طمانچہ مارے تو دوسری بھی اس کی طرف پھیر دو۔کوئی ایک کوس بیگار لے جاوے تو دو کوس چلے جائو۔کرتہ مانگے تو چغہ بھی دے دو۔اسی طرح پر ہر باب میں توریت اور انجیل کی تعلیم میں یہ بات نظر آئے گی کہ توریت افراط کا پہلولیتی ہے اور انجیل تفریط کا۔