ملفوظات (جلد 2) — Page 380
پس جس طرح پر ہم سب اشیاء میں ایک امتیاز اور فرق دیکھتے ہیں اسی طرح کلام میں بھی مدارج اور مراتب ہوتے ہیں جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام جو دوسرے انسانوں کے کلام سے بالا تر اور عظمت اپنے اندر رکھتا ہے اور ایک پہلو سے اعجازی حدود تک پہنچتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کے کلام کے برابر وہ بھی نہیں تو پھر اور کوئی کلام کیونکر اس سے مقابلہ کر سکتا ہے؟ یہ تو موٹی اور بدیہی بات ہے کہ جس سے سمجھ میں آسکتا ہے کہ قرآن شریف معجزہ ہے لیکن اس کے سوا اور بھی بہت سے وجوہ اعجاز ہیں۔خدا تعالیٰ کا کلام اس قدر خوبیوں کا مجموعہ ہے جو پہلی کسی کتاب میں نہیں پائی جاتی ہیں۔خاتم النّبیّین کا لفظ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بولا گیا ہے بجائے خود چاہتا ہے اور بالطبع اسی لفظ میں یہ رکھا گیا ہے کہ وہ کتاب جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہے وہ بھی خاتم الکتب ہو اور سارے کمالات اس میں موجود ہوں اور حقیقت میں وہ کمالات اس میں موجود ہیں۔کیونکہ کلام الٰہی کے نزول کاعام قاعدہ اور اصول یہ ہے کہ جس قدر قوت قدسی اور کمال باطنی اس شخص کا ہوتا ہے جس پر کلام الٰہی نازل ہوتا ہے اسی قدر قوت اور شوکت اس کلا م کی ہوتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی اور کمال باطنی چونکہ اعلیٰ سے اعلیٰ درجے کا تھا جس سے بڑھ کر کسی انسان کا نہ کبھی ہوا اور نہ آئندہ ہو گا اس لئے قرآن شریف بھی تمام پہلی کتابوں اور صحائف سے اس اعلیٰ مقام اور مرتبہ پر واقع ہوا ہے جہاں تک کوئی دوسرا کلام نہیں پہنچا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی استعداد اور قوت قدسی سب سے بڑھی ہوئی تھی اور تمام مقامات ِکمال آپؐپر ختم ہوچکے تھے اور آپ انتہائی نقطہ پر پہنچے ہوئے تھے اس مقام پر قرآن شریف جو آپ پر نازل ہوا کمال کو پہنچا ہوا ہے اور جیسے نبوت کے کمالات آپ پر ختم ہو گئے اسی طرح پر اعجاز کلام کے کمالات قرآن شریف پر ختم ہوگئے۔آپ ؐ خاتم النبییّن ٹھہرے اور آپؐکی کتاب خاتم الکتب ٹھہری جس قدر مراتب اور وجوہ اعجازِ کلام کے ہو سکتے ہیں ان سب کے اعتبار سے آپؐکی کتاب انتہائی نقطہ پر پہنچی ہوئی ہے۔یعنی کیا باعتبار فصاحت و بلاغت ، کیا باعتبار ترتیبِ مضامین، کیا باعتبار تعلیم، کیا باعتبار کمالاتِ تعلیم