ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 379 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 379

تنہا یا دوسروں کی مدد سے اس کی مثل لانے پر قادر نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی صرف ہمت کر دیتا ہے اور اس طرح پر اس کا معجزہ ہونا ثابت ہوتا ہے وہ بار بار مخالفوں کو اس کی مثال لانے کی دعوت اور تحدی کرتا ہے لیکن کوئی اس کے مقابلہ کے لئے نہیں اٹھ سکتا۔قرآن شریف جو اللہ تعالیٰ کا کلام ہے کامل معجزہ ہے دوسری کتابوں کی نسبت ہم نہیں دیکھتے کہ ایسی تحدّی کی گئی ہو جیسی قرآن شریف نے کی ہے۔اگرچہ ہم اپنے تجربہ اور قرآن شریف کے معجزہ کی بنا پر یہ ایمان لاتے ہیں کہ خدا کا کلام ہر حال میں معجزہ ہوتا ہے لیکن قرآن شریف کا اعجاز جس کاملیت اور جامعیت کے ساتھ معجزہ ہے دوسرے کو ہم اس جگہ پر نہیں رکھ سکتے کیونکہ بہت سی وجوہ اور صورتیں اس کے معجزہ ہونے کی ہیں اور کوئی شخص اس کی مثال بنانے پر قادر نہیں۔جو لوگ کہتے ہیں کہ کلام الٰہی معجزہ نہیں ہو سکتا وہ بڑے ہی گستاخ اور دلیر ہیں۔کیا وہ نہیں جانتے اور دیکھتے کہ خدا تعالیٰ کی ساری مخلوق بے مثل اور لانظیر ہے پھر اس کے کلام کی نظیر کیسے ہو سکتی ہے ؟ ساری دنیا کے مدبّر اور صنّاع مل کر اگر ایک تنکا بنانا چاہیں تو بنا نہیں سکتے پھر خدا کے کلام کا مقابلہ وہ کیسے کر سکتے ہیں؟ محض کلام کے اشتراک یا الفاظ کے اشتراک سے یہ کہہ دینا کوئی معجزہ نہیں نری حماقت اور اپنی موٹی عقل کا ثبوت دینا ہے کیونکہ ان اعلی مدارج اور کمالات پر ہر شخص اطلاع نہیں پا سکتا جو باریک بین نگاہ دیکھ سکتی ہے میرا یہ مذہب ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خالص کلام لعل کی طرح چمکتی ہے لیکن بایں ہمہ قرآن شریف آپ کی خالص کلام سے بالکل الگ اور ممتاز نظر آتا ہے اس کی وجہ کیا ہے؟ ہر چیز کے مراتب ہوتے ہیں مثلاً کپڑا ہے تو کھدر ، ململ ، اورخاصہ لٹّھا محض کپڑا ہونے کی حیثیت سے تو کپڑا ہی ہیں اور اس لحاظ سے کہ وہ سفید ہیں بظاہر ایک مساوات رکھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور ریشم بھی سفید ہوتا ہے لیکن کیا ہر آدمی نہیں جانتا کہ ان سب میں جدا جدا مراتب ہیں اور ان میں فرق پایا جاتا ہے۔ع گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی