ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 367 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 367

ہوتی ہے ضلالت اور جہنم کہلاتی ہے اور مرکز اصلی کی طرف رجوع کرنا جو راحت پیدا کرتا ہے جنت سے تعبیر ہوتا ہے اور گناہ سے ہٹ کر پھر نیکی کی طرف آنا جس سے اللہ تعالیٰ خوش ہو جاوے اس بدی کا کفارہ ہو کر اسے دور کر دیتا ہے اور اس کے نتائج کو بھی سلب کر دیتا ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ (ہود:۱۱۵) یعنی نیکیاں بدیوں کو زائل کر دیتی ہیں چونکہ بدی میں ہلاکت کی زہر ہے اور نیکی میں زندگی کا تریاق اس لئے بدی کے زہر کو دور کرنے کا ذریعہ نیکی ہی ہے۔یا اسی کو ہم یوں کہہ سکتے ہیں عذاب راحت کی نفی کا نام ہے اور نجات راحت اور خوشحالی کے حصول کا نام ہے اسی طرح پر جیسے بیماری اس حالت کا نام ہے جب حالت بدن مجری طبیعت پر نہ رہے۔اور صحت وہ حالت ہے کہ امور طبیعہ اپنی اصل حالت پر قائم ہوں اور جیسے کسی ہاتھ پائوں یا کسی عضو کے اپنے مقام خاص سے ذرا ادھر ادھر کھسک جانے سے درد شروع ہو جاتا ہے اور و ہ عضو نکما ہو جاتا ہے اور اگرچندے اسی حالت پر رہے تو پھر نہ خود بالکل بیکار ہو جاتا ہے بلکہ دوسرے اعضاء پر بھی اپنابُرا اثر ڈالنے لگتا ہے۔بعینہٖ یہی حالت روحانی ہے کہ جب انسان خدا تعالیٰ کے سامنے سے جو اس کی زندگی کا اصل موجب اور مایۂ حیات ہے ہٹ جاتا ہے اور فطرتی دین کو چھوڑ بیٹھتا ہے تو عذاب شروع ہو جاتا ہے اور اگر قلب مردہ نہ ہو گیا ہو اور اس میں احساس کا مادہ باقی ہو تو وہ اس عذاب کو خوب محسوس کرتا ہے اور اگر اس بگڑی ہوئی حالت کی اصلاح نہ کی جاوے تو اندیشہ ہوتا ہے کہ پھر ساری روحانی قوتیں رفتہ رفتہ نکمی اور بیکار ہو جائیں اور ایک شدید عذاب شروع ہو جاوے۔پس اب کیسی صفائی کے ساتھ یہ امر سمجھ میں آجاتا ہے کہ کوئی عذاب باہر سے نہیں آتا بلکہ خود انسان کے اندر ہی سے نکلتا ہے۔ہم کو اس سے انکار نہیں کہ عذاب خدا کا فعل ہے۔بے شک اسی کا فعل ہے مگر اسی طرح جیسے کوئی زہر کھائے تو خدا اسے ہلاک کر دے۔پس خدا کا فعل انسان کے اپنے فعل کے بعد ہوتا ہے۔اسی کی طرف اللہ جلشانہٗ اشارہ فرماتا ہے نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُ الَّتِيْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْـِٕدَةِ ( الہمزۃ :۷،۸) یعنی خدا کا عذاب وہ آگ ہے جس کو خدا بھڑکاتا ہے اورا س کا شعلہ انسان کے دل ہی سے اٹھتا ہے۔اس کا مطلب صاف لفظوں میں یہی ہے کہ عذاب کا اصل بیج