ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 365 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 365

انہیں تباہ اور ہلاک کر دیتی ہیں جس طرح پر سیاست اور ملک داری کے اصولوں کی تہ میں یہ بات رکھی ہوئی ہے کہ امن عامہ میں خلل انداز ہونے والوں کو وہ چور ہوں یا ڈاکو باغی ہوں یا کسی اور جرم کے مجرم محض اس لئے سزا دی جاتی ہے تاآئندہ کے لئے امن ہو اور دوسروں کو اس سے عبرت۔اسی طرح پر خدا تعالیٰ نے یہ قانون رکھا ہوا ہے کہ وہ شریروں اورسرکشوں کو جو ا س کے حدود اور اوامر کی پروا نہیں کرتے سزا دیتا ہے تاکہ حد سے نہ بڑھ جائیں۔جنہوں نے حد سے بڑھنا چاہا خدا نے وہیں انہیں تنبیہ کی۔اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ سزا اور تنبیہ اس شخص کے لئے بھی جسے دی جاتی ہے اور دوسروں کے واسطے بھی جو عبرت کی نگاہ سے اسے دیکھتے ہیں بطور رحمت ہے کیونکہ اگر سزا نہ دی جاتی تو امن اٹھ جاتا اور انجام کار نتیجہ بہت ہی بُرا ہوتا۔قانون قدرت پر نظر کرو اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ فطرت انسانی میں یہ بات رکھی ہوئی ہے اور اس فطرتی نقش ہی کی بنا پر قرآن نے یہ فرمایا ہے وَ لَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيٰوةٌ يّٰۤاُولِي الْاَلْبَابِ (البقرۃ:۱۸۰) یعنی تمہارے تمدن کے قیام کے لئے قصاص کاہونا ضروری ہے اگر افعال کے کچھ نتائج ہی نہیں ہوتے تو وہ افعال کیا ہوتے؟ اور ان سے کیا غرض مقصود ہوتی؟ غرض ضروری اور واقعی طور پر یہ سزائیں نہیں ہیں جو یہاں دی جاتی ہیں بلکہ یہ ایک ظل ہیں اصل سزائوں کا اور ان کی غرض ہے عبرت۔دوسرے عالم کے مقاصداَور ہیں اور وہ بالا تر اور بالا تر ہیں وہاں تو مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ ( الزلزال :۹) کا انعکاسی نمونہ لوگ دیکھ لیں گے اور انسان کو اپنے مخفی در مخفی گناہوں اور عزیمتوں کی سزا بھگتنی پڑے گی۔دنیا اور آخرت کی سزائوں میں ایک بڑا فرق یہ ہے کہ دنیا کی سزائیں امن قائم کرنے اور عبرت کے لئے ہیںاور آخرت کی سزائیں افعال انسانی کے آخری اور انتہائی نتائج ہیں وہاں اسے سزا ضرور ملنی ٹھہری کیونکہ اس نے زہر کھائی ہوئی ہے اور یہ ممکن نہیں کہ بدوں تریاق وہ اس زہر کے اثر سے محفوظ رہ سکے۔عاقبت کی سزا اپنے اندر ایک فلسفیانہ حقیقت رکھتی ہے جس کو کوئی مذہب بجز اسلام کے کامل طور پر بیان نہیں کر سکا۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَ اَضَلُّ سَبِيْلًا( بنی اسـراءیل:۷۳) یعنی جو شخص اس جہان میں اندھا