ملفوظات (جلد 2) — Page 363
سے چاہتا ہے اور یا اپنی شقاوت سے اس میں دلیر ہو جاتا ہے اور اپنی سر کشی اور شرارت میں ترقی کرکے جہنم کا وارث ٹھہر جاتا ہے۔اس دنیا میں جو سزائیں بطور تنبیہ دی جاتی ہیں، ان کی مثال مکتب کی سی ہے جیسے مکتب میں کچھ خفیف سی سزائیں بچوںکو ان کی غفلت اور سستی پر دی جاتی ہیں۔اس سے یہ غرض نہیں ہوتی کہ علوم سے انہیں استاد محروم رکھناچاہتا ہے بلکہ اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ انہیں اپنی غرض پر اطلاع دے کر آئندہ کے لئے زیادہ محتاط اور ہوشیار بنادے۔اسی طرح پر اللہ تعالیٰ جو شرارتوں اور شوخیوں پر کچھ سزا دیتا ہے توا س کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ نادان انسان جو اپنی جان پر ظلم کر رہا ہے اپنی شرارت اور اس کے نتائج پر مطلع ہو کر اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جبروت سے ڈر جاوے اور اس کی طرف رجوع کرے۔میں نے اپنی جماعت کے سامنے بارہا اس امر کو بیان کیا ہے اور اب آپ کو بھی بتاتا ہوں کہ جب انسان ایک کام کرتا ہے خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی ایک فعل اس پر نتیجہ کے طور پر مترتّب ہوتا ہے مثلاً جب ہم کافی مقدار زہر کی کھا لیں گے توا س کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ ہم ہلاک ہو جائیں گے۔اس میں زہر کھانا یہ ہمارا اپنا فعل تھا اور خدا کا فعل اس پر یہ ظاہر ہوا کہ اس نے ہلاک کر دیا یا مثلاً یہ کہ اگر ہم اپنے گھر کی کوٹھڑی کی کھڑکیاں بند کر لیں تو یہ ہمارا فعل ہے اوراس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فعل ہو گا کہ کوٹھڑی میں اندھیرا ہو جائے گا۔اسی طرح پر انسانی افعال اور اس پر بطور نتائج اللہ تعالیٰ کے افعال کے صدور کا قانون دنیا میں جاری ہے اور یہ انتظام جیسا کہ ظاہر سے متعلق ہے اور جسمانی نظام میں اس کی نظیریں ہم ہر روز دیکھتے ہیں اسی طرح پر باطن کے ساتھ بھی تعلق رکھتا ہے اور یہی ایک اصول ہے جو قانون سزا کے سمجھنے کے واسطے ضروری ہے اور وہ یہی ہے کہ ہماراہر ایک فعل نیک ہو یا بد اپنے فعل کے ساتھ ایک اثر رکھتا ہے جو ہمارے فعل کے بعد ظہور پذیر ہوتا ہے۔اب عذاب اور راحت کو جو گناہوں کی پاداش یا نیکیوں کی جزا میں دی جاتی ہے ہم بہت جلد سمجھ سکتے ہیں اور میں پوری بصیرت اور دعویٰ کے ساتھ کہتا ہوں کہ اس فلاسفی کے بیان کرنے سے دوسرے تمام مذہب بالکل عاری اور تہی ہیں۔اس بات کوہر شخص جو خدا کو مانتا ہے اقرار کرتا ہے کہ