ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 30 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 30

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰ جلد دوم نکل گئی ۔ ایسا ہی غلام محی الدین کو تلی کشمیر کا ممبر یکدفعہ ہی مر گیا۔ غرض موت کے آجانے کا ہم کو کوئی کوتلی کا وقت معلوم نہیں کہ کس وقت آجاوے ۔ اسی لیے ضروری ہے کہ اس سے بے فکر نہ ہوں ۔ پس دین کی غم خواری ایک بڑی چیز ہے جو سکرات الموت میں سرخرو رکھتی ہے۔ قرآن شریف میں آیا ہے ان زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمُ (الحج : ۲) ساعت سے مراد قیامت ؟ مراد قیامت بھی ہوگی ۔ ہم کو اس سے انکار نہیں مگر اس میں سکرات الموت ہی مراد ہے کیونکہ انقطاع تام کا وقت ہوتا ہے۔ انسان اپنے محبوبات اور مرغوبات سے یکدفعہ الگ ہوتا ہے اور ایک عجب قسم کا زلزلہ اس پر طاری ہوتا ہے ۔ گویا اندر ہی اندر وہ ایک شکنجہ میں ہوتا ہے۔ اس لئے انسان کی تمام تر سعادت یہی ہے کہ وہ موت کا خیال رکھے اور دنیا اور اس کی چیزیں اس کی ایسی محبوبات نہ ہوں جو اس آخری ساعت میں علیحدگی کے وقت میں اس کی تکالیف کا موجب ہوں ۔ دنیا اور اس کی چیزوں کے متعلق ایک شاعر نے کہا ہے این همه را به کشتنت آهنگ گاه بصلح کشند و گاه بجنگ قرآن کریم نے اس مضمون کو اس آیت میں ادا کر دیا ہے اِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ (الانفال: ۲۹) اموالکم میں عورتیں داخل ہیں۔ عورت چونکہ پردہ میں رہتی ہے اس لئے اس کا نام بھی پردہ ہی میں رکھا ہے اور اس لئے بھی کہ عورتوں کو انسان مال خرچ کر کے لاتا ہے۔ مال کا لفظ مائل سے لیا گیا ہے یعنی جس کی طرف طبعاً توجہ اور رغبت کرتا ہے۔ عورت کی طرف بھی چونکہ طبعاً توجہ کرتا ہے اس لئے اس کو مال میں داخل فرمایا ہے۔ مال کا لفظ اس لئے رکھا تا کہ عام محبوبات پر حاوی نہ ہو۔ ورنہ اگر صرف نساء کا لفظ ہوتا تو اولا د اور عورت دو چیزیں قرار دی جاتیں اور اگر محبوبات کی تفصیل کی داورعورت جاتی تو صرف پھر دس جزو میں بھی ختم نہ ہوتا ۔ غرض مال سے مراد كُلَّ مَا يَمِيلُ إِلَيْهِ الْقَلْبُ ہے۔ اولاد کا ذکر اس لئے کیا ہے کہ انسان اولا دجگر کا ٹکڑہ اور اپنا وارث سمجھتا ہے۔ ہو مختصر بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور انسان کے محبوبات میں ضد ہے ۔ دونوں باتیں یکجا جمع نہیں سکتیں ۔