ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 352 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 352

ہوگئے ہیں۔آپ کے لیے اور آپ کی اولاد کے لئے بہت ہی مفیدہیں۔مخالفت ہمیشہ سچوں کی ہوتی ہے فرمایا۔مجمل طور پرلکھا ہے کہ طاعون ترقی پر ہے۔میرا ارادہ ہے اور مولوی صاحب نے بھی کہا ہے کہ ایک بار پھر طاعون کے متعلق ایک اشتہار دے دیا جاوے کہ لوگ رجوع کریں اور سچی پاکیزگی اور تبدیلی پیداکریں۔دیکھاگیا ہے اور سُنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ جس قدر زور ہوا ہے سچوں ہی پر ہوا ہے۔اُن کی مخالفت میں ساری طاقتیں خرچ کی گئی ہیں۔دیکھو! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں کتنا زور لگایاگیا۔برخلاف اس کے مسیلمہ کذّاب کو فی الفور مان لیا گیا۔ایسا ہی حضرت مسیحؑ کے وقت میں بھی ہوا اور اب بھی ویساہی ہوا۔جھوٹوں کو کوئی پوچھتا بھی نہیں۔راستباز پر حملہ پر حملہ کرتے ہیں اور اس کی مخالفت کے لئے سب مل بیٹھے ہیں۔۱ ۱۸؍نومبر ۱۹۰۱ء صبح کو قریباً ساڑھے آٹھ بجے حضرت اقدس سیر کو نکلے، نیچے اترتے ہی مسٹر ڈکسن سیاح کو مخاطب کر کے فرمایا۔ہماری دلی آرزو یہی ہے کہ آپ چند روز ہمارے پاس اور ٹھہریں تاکہ میں اسلام کی وہ روحانی فلاسفی جو اس زمانہ میں مخفی تھی اور جو خدا نے مجھے عطا کی ہے آپ کو سمجھائوں۔مسٹر ڈکسن۔میں آپ کا از بس ممنون ہوں مگر آج مجھے جانا ہی چاہیے میں نے کچھ کچھ سن لیا ہے۔حضرت اقدس۔چونکہ آپ کو چلے جانا ہے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ کچھ تو اپنے مقصد کو بیان کر دوں۔مسیح موعود کی بعثت کا مقصد انبیاء علیہم السلام کی دنیا میں آنے کی سب سے بڑی غرض اور ان کی تعلیم اور تبلیغ کا عظیم الشان مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ خدا تعالیٰ کو شناخت کریں اور اس زندگی سے جوانہیں جہنم اور ہلاکت کی طرف لے جاتی اور جس کو