ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 351 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 351

یہ بزرگی اورعظمت تو آپ ہی کی ہوئی کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے باہرتو کوئی چیز نہیں بلکہ اُسی کے رنگ اور اُسی کی چادر میں سے یہ ظہور نشانات کاہورہا ہے اور اسی کے ہاتھ پر صادر ہورہے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ جو اسباب اورسامان تبلیغ اوراشاعت کے ہمیں میسرآئے ہیں اور اس زمانہ میں جمع ہوئے ہیں وہ پہلے نہیں ہوئے اور نہ مذاہب کا اس قدر زور ہوا۔غرض یہ نشانات اپنی نظیر نہیں رکھتے۔الٰہی بخش کی پیش گوئیاں کیاحقیقت رکھ سکتی ہیں؟ سچے موَحد ہی خداداد قویٰ سے کام لے سکتے ہیں فرمایا۔جو قویٰ خدا نے انسان کو دیئے ہیں۔ان سب سے بجز سچے موَحّد کے کوئی دوسرا کام نہیں لے سکتا۔شیعہ ترقی نہیں کرسکتے کیونکہ وہ تو اپنی ساری کوششوں کا مُنتہا امام حسینؓکو سمجھ بیٹھے۔ان کو رولینا اور ماتم کرلینا کافی قرار دے لیا۔ہمارے اُستاد ایک شیعہ تھے۔گل علی شاہ اُن کا نام تھا۔کبھی نماز نہیں پڑھا کرتے تھے۔منہ تک نہ دھوتے تھے۔(اس پر نواب صاحب نے آپ کی تائید میں بیان کیا کہ وہ میرے والد صاحب کے بھی اُستاد تھے اور وہاں جایاکرتے تھے۔اور یہ واقعی سچ ہے کہ اُن کی مسجدیں غیرآباد ہوتی ہیں۔) ہماری مسجد کا ایسا ہی حال تھا اور اب خدا کے فضل سے وہ آباد ہوگئی ہے۔اور لوگ نماز پڑھنے لگے ہیں۔اس پر حضرت اقدس نے نواب صاحب کو مخاطب کرکے فرمایا۔وہ کبھی کبھی آپ کے والد صاحب کا ذکر کیا کرتے تھے اور یہاں سے تین تین مہینے کی رُخصت لے کر مالیر کوٹلہ جایاکرتے تھے۔میں نے غائبانہ بھی کئی مرتبہ ذکر کیا ہے اور میری فراست مجھے یہی بتاتی ہے(یہ نواب صاحب کی مسجد کے آباد ہونے اور نمازیوں کے آنے کے ذکر پر فرمایا) کہ راستی کو قبول کرنا اور پھر خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال سے ڈر جانا اور اُس کی طرف رجوع کرنا آپ کے اورآپ کی اولاد کے اقبال کی نشانی ہے۔بجُز اس کے کہ انسان سچائی سے خدا کی طرف آئے خدا کسی کی پروا نہیں کرتا۔خواہ وہ کوئی ہو۔مبارک دن ہمیشہ نیک بخت کو ملتے ہیں۔یہ آثار صلاحیت،تقویٰ اور خداترسی کے جو آپ میں پیدا