ملفوظات (جلد 2) — Page 349
یورپین۔میں صرف نظارہ عالم دیکھنا چاہتا ہوں تاکہ کسی طرح دل مضطر کو قرار ہو۔حضرتؑ۔آخر آپ کے سفر کی کوئی غرض بھی ہے؟ یورپین۔کوئی مدعا نہیں۔حضرتؑ۔کیا آپ فری میسن ہیں؟ یورپین۔میں ان میں یقین نہیں رکھتا بلکہ میں اپنا آپ ہی بادشاہ ہوں اور آپ ہی اپنا لاج ہوں۔میں سب کا دوست ہوں اور کسی کا دشمن نہیں۔حضرتؑ۔آپ کا نام کیا ہے؟ یورپین۔ڈی ڈی ڈکسن۔حضرتؑ۔عیسائی فرقوں میں سے آپ کس کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں؟ یورپین۔میں کسی فرقہ کا پابند نہیں ہوں۔میرا اپنا مذہب خاص ہے۔دنیا میں کوئی ایسا مذہب نہیں ہے جس میں صداقتیں نہ ہوں۔میں ان سب مذاہب میں سے صداقتوں کو لے کر اپنا ایک الگ مذہب بناتا ہوں۔حضرتؑ۔اگر آپ کا کوئی مذہب نہیں تو یہ مجموعہ انتخاب بھی تو ایک مذہب ہی ہونا چاہیے۔یورپین۔ہاں اگر اسے مذہب کہنا چاہیے تو میرا یہی مذہب ہے کہ مختلف صداقتیں لیتا ہوں۔حضرتؑ۔اچھا،جو مذہب آپ نے مختلف مذاہب کی صداقتوں کو لے کر جمع کیا ہے وہ غلطیوں سے بالکل منزّہ ہے یا کوئی اور مذہب بھی ایسا آپ کے نزدیک ہے جو بالکل غلطیوں سے مبرّا ہو ؟ یورپین۔جو مذہب میں نے جمع کیا ہےوہ تعلیم یافتہ لوگوں کے لئے اچھا ہے اور وہ مسیح کی اس تمثیل کے اصول پر ہے جو اس نے کسی مالدار آدمی کی بیان کی ہے کہ اس نے اپنے نوکروں کو کچھ روپیہ دیا۔ان میں سے ایک نے تو اس روپیہ کو کسی مصرف میں لگایا اور اس سے کچھ بنایا۔دوسرے نے کچھ نہ کیا۔پس خدا نے جو کچھ ہم کو دیاہے اگر ہم اس سے کچھ بنائیں تو وہ خوش ہوتا ہے اور جو کچھ نہیں بناتا اس سے ناراض ہوتا ہے۔