ملفوظات (جلد 2) — Page 348
آگے بڑھے اور بڑھتے ہی کہا۔ایک یورپین سیاح سے گفتگو یورپین۔السلام علیکم۔ان کے السلام علیکم کہنے پر مختلف خیال حاضرین مجلس کے دل میںگزرے۔کسی نے ترک سمجھا اور کسی نے نو مسلم۔صاحب موصوف کو بیٹھے ہوئے ایک منٹ ہی گزرا ہو گا کہ خان صاحب نواب خان صاحب تحصیلدار گجرات نے پوچھا۔آپ کہاں سے آئے ہیں؟ یورپین۔میں سیاح ہوں۔خان صاحب۔آپ کا وطن؟ یورپین۔میں اتنی اردو نہیں جانتا اور پھر کچھ سمجھ کر بولا۔او۔ہاں، انگلینڈ۔اتنے میں مفتی محمد صادق صاحب آگئے۔حضرت اقدس کے ایما سے وہ ترجمان ہوئے اور اس طرح پر حضرت اقدسؑ اور یورپین نووارد میں گفتگو ہوئی۔حضرتؑ۔آپ کہاں سے آئے ہیں؟ یورپین۔میں کشمیر سے کُلُّو گیا تھا اور وہاں سے ہو کر اب یہاں آتا ہوں۔حضرتؑ۔آپ کا اصل وطن کہاں ہے؟ یورپین۔انگلینڈ۔میں سیاح ہوں۔اور عرب اور کربلا میں بھی گیا تھا۔اب میں یہاں سے مصر، الجیریا، کارتھیج اور سوڈان کو جاؤں گا۔حضرتؑ۔آپ کے اس سفر کا کیا مقصد ہے؟ یورپین۔صرف دید، شنید، سیاحت۔حضرتؑ۔کیا آپ بحیثیت کسی پادری کے سفر کرتے ہیں؟ یورپین۔ہرگز نہیں۔حضرتؑ۔آپ کی دلچسپی زیادہ تر کس امر کے ساتھ ہے۔کیا مذہب کے ساتھ یا علمی امور کی طرف یا پو لیٹیکل امور کے ساتھ؟