ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 346 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 346

مضمون آفرینی سے بڑھ کر کچھ وقعت نہیں رکھتی۔افسوس ہے کہ مولوی صاحب نے روپیہ صرف کیا اور کوشش کی مگر نتیجہ یہ نکلا۔مولوی صاحب اس کو ضرور خط لکھ دیں اور اسے بتائیں کہ معجزات اور مکالمات اور پیشگوئیاں ہی ہیں جنہوں نے اسلام کو زندہ مذہب قرار دیا ہے۔فری میسنز Freemasons فرمایا۔ہم کو کبھی کبھی خیال پیدا ہوتا تھا کہ فری میسن کی حقیقت معلوم ہو جاوے مگر کبھی توجہ کرنے کا موقع نہیں ملا۔ان حالات کو جو یہ اپنے لیکچر میں بیان کرتا ہے سن کر اس الہام کی جو مجھے ہوا تھا ایک عظمت معلوم ہوتی ہے۔اس الہام کا مضمون یہ ہے کہ فری میسن اس کے قتل پر مسلط نہیں کئے جائیں گے۔اس الہام میں بھی گویا فری میسن کی حقیقت کی طرف شاید کوئی اشارہ ہو کہ وہ بعض ایسے امور میں جہاں کسی قانون سے کام نہ چلتا ہو۔اپنی سوسائٹی کے اثر سے کام لیتے ہوں۔میں سمجھتا ہوں کہ فری میسن کی مجلس میں ضرور بعض بڑے بڑے اہلکار اور عمائد سلطنت یہاں تک کہ بعض بڑے شہزادے بھی داخل ہوں گے اور ان کا رُعب داب ہی مانع ہوتا ہو گا کہ کوئی اس کے اسرار کھول سکے ورنہ یہ کوئی معجزہ یا کرامت تو ہے نہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مصالح سلطنت کے لئے کوئی ایسا مجمع ہوتا ہو گا۔ایک منذر الہام فرمایا۔آج ایک منذر الہام ہوا ہے۔اور اس کے ساتھ ایک خوفناک رؤیا بھی ہے۔وہ الہام یہ ہے۔مَحْمُوْمٌ پھر نَظَرْتُ اِلَی الْمَحْمُوْمِ۔پھر دیکھا کہ بکرے کی ران کا ٹکڑا چھت سے لٹکایا ہوا ہے۔۱ ۱۷؍نومبر ۱۹۰۱ء انقلاب دنیا فرمایا۔آذر حضرت ابراہیم کا باپ ہی تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس کا نام اَبْ رکھا ہے۔اس قسم کے انقلاب دنیا میں ہوتے آئے ہیں۔کبھی باپ صالح ہوتا ہے بیٹا طالح ہوتا ہے اور کبھی بیٹا صالح ہوتا ہے باپ طالح ہوتا ہے۔ہمارے پڑدادا صاحب بڑے مخیر تھے اور