ملفوظات (جلد 2) — Page 28
فرعونیوں کا مال انہوں نے غبن کیا اور بچے مارے اور یہ کیا اور وہ کیا۔مگر نصرتِ الٰہی نے غرق فرعون اور آپ کی نجات سے فیصلہ کر دیا کہ حق کس طرف تھا۔غرض نصرتِ الٰہی آخر کار بڑا فیصلہ کن قاضی ہوتی ہے۔ہمارے اور ان کے درمیان بھی نصرتِ الٰہی اورتائیداتِ سماوی فیصلہ کن ہوں گی۔۱ ۲۲؍دسمبر ۱۹۰۰ء وقت کی قدر کرو ڈاکٹر محمد اسماعیل خاں صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا۔ڈاکٹر صاحب!ہمارے دوست دو قسم کے ہیں۔ایک وہ جن کے ساتھ ہم کو کوئی حجاب نہیں اور دوسرے وہ جن کو ہم سے حجاب ہے۔چونکہ ان کو ہم سے حجاب ہے اس لئے ان کے دل کا اثر ہم پر پڑتا ہے اور ہم کو ان سے حجاب رہتا ہے۔جن لوگوں سے ہم کو کوئی حجاب نہیں ہے ان میں سے ایک آپ بھی ہیں۔ہم چاہتے ہیںکہ ہمارے وہ دوست جن کو ہم سے کچھ حجاب باقی نہیں رہا وہ ہمارے پاس رہیں کیونکہ موت کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔ہم سب کے سب عمر کی ایک تیز رفتار گاڑی پر سوار ہیں اور مختلف مقامات کے ٹکٹ ہمارے پاس ہیں۔کوئی دس برس کی منزل پر اتر جاتا ہے کوئی بیس کوئی تیس اور بہت ہی کم اَسّی برس کی منزل پر۔جبکہ یہ حال ہے تو پھر کیسا بد نصیب وہ انسان ہے کہ وہ اس وقت کی جو اس کو دیا گیا ہے کچھ قدر نہ کرے اور اس کو ضائع کر دے۔نماز میں دعا اور تضرّع انسان کی زاہدانہ زندگی کا بڑا بھاری معیار نماز ہے۔وہ شخص جو خدا کے حضور نماز میں گریاں رہتا ہے،امن میں رہتا ہے۔جیسے ایک بچہ اپنی ماں کی گود میں چیخ چیخ کر روتا ہے اور اپنی ماں کی محبت اور شفقت کو محسوس کرتا ہے۔اسی طرح پر نماز میں تضرّع اور ابتہال کے ساتھ خدا کے حضور گڑ گڑانے والا اپنے آپ کو ربوبیت کی عطوفت کی گود میں ڈال دیتا ہے۔یاد رکھو اس نے ایمان کا حظ نہیں اٹھایا جس نے نماز میں لذّت نہیں پائی۔نماز صرف ٹکروں کا نام نہیں ہے۔بعض لوگ نماز کو تو دو چار چونچیں لگا کر جیسے مرغی ٹھونگے مارتی ہے ختم ۱ الحکم جلد ۴ نمبر ۴۵ مورخہ ۱۷ ؍ دسمبر ۱۹۰۰ ء صفحہ ۲