ملفوظات (جلد 2) — Page 313
کے پیدا کر دیتا ہے یا خارق عادت صبر ان کو عطا کرتا ہے۔۱ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام دَنَا فَتَدَلّٰى دَنَا فَتَدَلّٰى (النجم:۹) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں آیا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اوپر کی طرف ہو کر نوعِ انسان کی طرف جھکا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال اعلیٰ درجہ کا کمال ہے جس کی نظیر نہیں مل سکتی اور اس کمال میں آپ کے دو درجے بیان فرمائے ہیں۔ایک صعود، دوسرا نزول۔اللہ تعالیٰ کی طرف تو آپ کا صعود ہوا یعنی خدا تعالیٰ کی محبت اور صدق و وفا میں ایسے کھینچے گئے کہ خود اس ذاتِ اقدس کے دُنُوّ کا درجہ آپ کو عطا ہوا۔دُنُوّ اَقْرَب سے اَبْلَغ ہے۔اس لیے یہاں یہ لفظ اختیار کیا۔جب اللہ تعالیٰ کے فیوضات اور برکات سے آپ نے حصہ لیا تو پھر بنی نوع پر رحمت کے لیے نزول فرمایا۔یہ وہی رحمت تھی جس کا اشارہ اللہ تعالیٰ نے مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ(الانبیآء:۱۰۸) فرمایا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم قاسم کا بھی یہی سِر ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ سے لیتے ہیں جو کچھ لیتے ہیں اور پھر مخلوق کو پہنچاتے ہیں۔بس مخلوق کوپہنچانے کے واسطے آپ کا نزول ہوا۔اس دَنَا فَتَدَلّٰى میں اسی صعود اور نزول کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علوّ مرتبہ کی دلیل ہے۔پیشگوئیوں میں استعارات انبیاء علیہم السلام کے آنے کے وقت دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ایک وہ جو استعارات کو حقیقت پر محمول کر لیتے ہیں اور حقیقت کو استعارہ بنانا چاہتے ہیں۔یہ گروہ ان کی شناخت سے محروم رہ جاتا ہے۔لیکن ایک اور گروہ ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی تائید سے اصل حقیقت کو پالیتے ہیں۔وہ استعارہ کو استعارہ اور حقیقت کو حقیقت ٹھہراتے ہیں جیسے یہودیوں نے حضرت مسیح کی آمد کے وقت ملاکی نبی کے صحیفہ کی بنا پر کہا کہ مسیح کے آنے کی یہ نشانی ہے کہ اس سے پہلے ایلیا آسمان سے آوے۔مسیح علیہ السلام