ملفوظات (جلد 2) — Page 303
۱۴؍ستمبر ۱۹۰۱ء (بعدمغرب) ’’اُمّ المُؤمِنین‘‘ کے لفظ کااستعمال ’’ اُمّ المُؤمنین‘‘ کا لفظ جو مسیح موعود ؑ کی بیوی کی نسبت استعمال کیا جاتا ہے اس پربعض لوگ اعتراض کرتے ہیں۔حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے سُن کر فرمایا۔اعتراض کرنے والے بہت ہی کم غورکرتے اور اس قسم کے اعتراض صاف بتاتے ہیں کہ وہ محض کینہ اور حسد کی بنا پر کیے جاتے ہیں ورنہ نبیوں یا ان کے اظلال کی بیویاں اگراُمہات المؤمنین نہیں ہوتی ہیں توکیا ہوتی ہیں؟ خدا تعالیٰ کی سُنّت اورقانونِ قدرت کا اس تعامل سے بھی پتہ لگتا ہے کہ کبھی کسی نبی کی بیوی سے کسی نے شادی نہیں کی۔ہم کہتے ہیں کہ ان لوگوں سے جو اعتراض کرتے ہیں کہ اُمّ المُؤمنین کیوں کہتے ہو؟ پوچھنا چاہیے کہ تم بتائو جو مسیح موعود تمہارے ذہن میں ہے اور جسے تم سمجھتے ہو کہ وہ آکر نکاح بھی کرے گا۔کیا اس کی بیوی کو تم اُمّ المُؤمنین کہو گے یا نہیں؟ مسلم میں تو مسیح موعود کونبی ہی کہا گیا اور قرآن شریف میں انبیاء علیہم السلام کی بیویوں کومومنوں کی مائیں قرار دیاہے۔افسوس تو یہ ہے کہ یہ لوگ میری مخالفت اور بغض میں ایسا تجاوز کرتے ہیں کہ منہ سے بات کرتے ہوئے اتنابھی نہیں سوچتے کہ اس کا اثر اورنتیجہ کیا ہوگا؟ جن لوگوں نے مسیح موعود کو شناخت کرلیا ہے اور اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ کے موافق اس کی شان کو مان لیا ہے ان کا ایمان توخودبخود انہیں اس بات کے ماننے پر مجبور کرے گا اور جو آج اعتراض کرتے ہیں یہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی ہوتے تب بھی اعتراض کرنے سے باز نہ آتے۔یہ بات خوب یادرکھنی چاہیے کہ خدا کامامور جو ہدایت کرتاہے اور رُوحانی اصلاح کا موجب ہوتا ہے وہ درحقیقت باپ سے بھی بڑھ کر ہوتاہے۔افلاطون حکیم لکھتا ہے کہ باپ تو رُوح کو آسمان سے زمین پر لاتاہے مگر اُستاد زمین پر سے پھر آسمان پر پہنچاتا ہے۔باپ کا تعلق توصرف فانی جسم کے ہی ساتھ ہوتا