ملفوظات (جلد 2) — Page 298
دوسروں کے سامنے بسا اوقات شرمندہ ہوجاتا ہے اور اسے دبنا پڑتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ ہر ایک شخص جو اس سلسلہ میں شامل ہے ان باتوں کو جو ضروری ہیں خوب یاد رکھے اور بیان کرنے کی عادت ڈالے۔۱ ۱۳؍ستمبر ۱۹۰۱ء تبتّل کی حقیقت تبتّل کی حقیقت جو ۱۳؍ستمبر ۱۹۰۱ء کو مغرب کی نماز کے بعد حضرت اقدس حجۃ اللہ علی الارض مسیح موعود اَدَامَ اللّٰہُ فُیُوْضَہُمْ نے سید امیرعلی شاہ صاحب ملہم سیالکوٹی کے استفسارپر بیان فرمائی۔ان کو اپنی کسی رؤیا میں ارشادہواتھا کہ وہ تبتّل کے معنے حضرت اقدس ؑ سے دریافت کریں۔اس بِنا پر انہوں نے سوال کیااور حضرت اقدس ؑ نے اس کی تشریح فرمائی۔میرے نزدیک رؤیا میں یہ بتانا کہ تبتّل کے معنی مجھ سے دریافت کئے جاویں۔اس سے یہ مُراد ہے کہ جو میرامذہب اس بارہ میں ہے وہ اختیار کیا جاوے۔منطقیوں یا نحویوں کی طرح معنے کرنا نہیں ہوتا بلکہ حال کے موافق معنے کرنے چاہئیں۔ہمارے نزدیک اُس وقت کسی کو متبتّل کہیں گے جب وہ عملی طور پر اللہ تعالیٰ اور اس کے احکام اور رضاکودنیا اور اس کی متعلقات و مکروہات پر مقدّم کرلے۔کوئی رسم وعادت کوئی قومی اُصول اس کا رہزن نہ ہو سکے، نہ نفس رہزن ہوسکے، نہ بھائی نہ جورو، نہ بیٹا، نہ باپ، غرض کوئی شے اور کوئی متنفّس اس کو خدا تعالیٰ کے احکام اور رضا کے مقابلہ میں اپنے اثر کے نیچے نہ لاسکے اور وہ خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول میں ایسا اپنے آپ کو کھودے کہ اس پرفنائے اَتَم طاری ہوجاوے اور اس کی ساری خواہشوں اور ارادوں پر ایک موت وارد ہوکر خدا ہی خدا رہ جاوے۔دُنیا کے تعلقات بسا اوقات خطرناک رہ زن ہوجاتے ہیں۔حضرت آدم علیہ السلام کی رہ زن حضرت حوّا ہوگئی۔پس تبتّلِ تام کی صورت میں یہ ضروری امر ہے کہ ایک سُکر اور فناانسان پر وارد ہو مگر نہ ایسی کہ وہ اسے خدا سے گم کرے بلکہ خدا میں گم کرے۔