ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 297 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 297

کچھ ہونے والا ہے۔چنانچہ طاعون کے طوفان نے بتا دیا کہ یہ وہی طوفان ہے۔قصیدہ الہامیہ کے ایک شعر میں بھی ہے۔؎ واللہ کہ ہمچو کشتی نوحم زِ کردگار بیدولت آنکہ دور بماند ز لنگرم میرے آنے کی اصل غرض اور مقصد یہی ہے کہ توحید ، اخلاق اور روحانیت کو پھیلاؤں۔توحید سے مراد یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ہی کو اپنا مطلوب ، مقصود اور محبوب اور مطاع یقین کر لیا جاوے۔موٹی موٹی بت پرستی اور شرک سے لے کر اسباب پرستی کے شرک اور باریک شرک اپنے نفس کو بھی کچھ سمجھ لینے تک دور کر دیا جاوے جس میں دنیا گرفتار ہے۔اور اخلاق سے مراد یہ ہے کہ جس قدر قویٰ انسان لے کر آیا ہے ان کو اپنے محل اور موقع پر خرچ کیا جاوے یہ نہیں کہ بعض کو بالکل بے کار چھوڑ دیا جاوے اور بعض پر بہت زور دیا جاوے مثلاً اگر کوئی ہاتھ کو بالکل کاٹ دے تو کیا اس سے کوئی خوبی پیدا ہوسکتی ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ سچے اور کامل اخلاق یہی ہیں کہ جو جو قوتیں اللہ تعالیٰ نے دے رکھی ہیں ان کو اپنے محل پر ایسے طور سے خرچ کیاجاوے کہ جس میں افراط اور تفریط پیدا نہ ہو۔افراط یہ ہے کہ مثلاً جس کو قوت شامہ میں افراط ہو تو حدّت الحس کی مرض ہو جاوے گی اور پھر اس سے اور امراض شدیدہ پیدا ہوجاتے ہیں۔تفریط یہ ہے کہ اس کی حس بالکل مفقود ہوجاتی ہے اور اعتدال یہ ہے کہ دونوں اپنے اپنے محل اور مقام پر رہیں اور یہی وہ درجہ اور مقام ہے جہاں اخلاق اخلاق کہلاتے ہیں اور اسی کو میں قائم کرنے آیا ہوں۔روحانیت سے مراد وہ آثار اور علامات ہیں جو خدا تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق پیدا ہونے پر مترتّب ہوتے ہیں اور یہ کیفیتیں ہیں جب تک پیدا نہ ہوں انسان سمجھ نہیں سکتا مگر اصل غرض یہی ہیں۔نئی جماعت کو زبان کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اپنےحُسنِ بیان سے ان حقائق اور معارف کو جو اپنے امام سے سیکھتی ہے دوسروں کو آگاہ کر سکے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض وقت صبح سے لے کر شام تک لیکچر دیتے تھے اگر کوئی شخص ان عقائد کو جو اس نے سیکھے ہیں بیان کرنے کی قوت اور قدرت نہیں رکھتا تو وہ