ملفوظات (جلد 2) — Page 296
مگر آپ نے فرمایا لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو خدا تعالیٰ پر کس قدر یقین اور بھروسا تھا۔حقیقت میں جو اس رنگ کا ایمان خدا پر نہیں لاتا اسے کوئی مزہ خدا پر ایمان لانے کا نہیں آسکتا۔خدا پر کامل یقین خارق عادت امور کی قوت عطا کرتا ہے۔انبیاسے اسی لیے معجزات صادر ہوتے ہیں اور وہ بھی شدید تکالیف کے وقت جبکہ دنیا دار ان کی موت اور ہلاکت کی پیشگوئی کرتے ہیںوہ بچ کر نکل جاتے ہیں۔دیکھو! ڈگلس کے سامنے جب کلارک کا مقدمہ تھا اس وقت سب کی یہی رائے تھی کہ اب یہ پکڑا جاوے گا۔مگر میرا خدا مجھے تسلی دے چکا تھا کہ تُو عزّت کے ساتھ بَری ہوگا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔یہ نتیجہ ہے خدا تعالیٰ پر کامل یقین اور کامل ایمان کا۔دشمن کا وجود بھی عجیب چیز ہے اس کے ذریعہ سے بہت سے حقائق اور حکمتیں ظاہر ہوتی ہیں کیونکہ وہ اپنی دشمنی میں حد سے بڑھ کر شرارتوں اور ایذا رسانیوں کی فکر اور منصوبے کرتے ہیں اور صادقوں کو تباہ کرنا چاہتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کا ہاتھ اس وقت ان کو نہ صرف بچا لیتا بلکہ ان کی تائید میں فوق العادت نشان ظاہر کرتا ہے۔پس دشمنوں سے صادق کو کبھی گھبرانا نہیں چاہیے۔ہاں صبر اور استغفار کثرت سے کرنا چاہیے۔جس قدر مخالفت شدت سے ہو اسی قدر خدا کی نصرت قریب آتی ہے اور وہ اپنی تجلّی ظاہر کرتا ہے۔جب یہ شناخت کر لیا کہ حق کیا ہے؟ پھر اس حق کا اگر کوئی مخالف ہو تو اس مقابل کو قابل رحم سمجھنا چاہیے کیونکہ وہ اہل حق کا مخالف نہیں بلکہ خدا کو اپنے مقابلہ کے لیے بلاتا ہے اور خدا سے جنگ کرتا ہے۔خدا تعالیٰ مستعجل نہیں۔وہ جلدی نہیں پکڑتا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کس قدر مخالفت کی گئی اور تیرہ برس تک کس قدر گالیاں آپ نے سنیں اسی طرح پر اب تیرہ سو برس سے اس سید المعصومین صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت پر حملے کیے جاتے رہے اب خد اتعالیٰ نے ان سب حملوں کا انتقام لے لیا۔یہ انسان کی کمزوری ہے جو جلد فیصلہ کرنا چاہتا ہے۔خدا تعالیٰ نے اس سلسلہ کا نام بھی کشتی رکھا ہے۔چنانچہ بیعت کے الہام میں اِصْنَعِ الْفُلْکَ ہی فرمایا ہے۔صاف کہہ سکتا تھا کہ بیعت لے لو مگر یہ الہام بتاتا ہے کہ یہاں بھی نوح کے زمانہ کی طرح