ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 295 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 295

زمانہ قرار دیا گیا ہے۔اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کسی دوسرے کی بیعت کب جائز ہوسکتی اور قائم رہ سکتی ہے۔یہ اس شخص کا زمانہ ہے جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کہا اب اس کی بیعت کے سوا سب بیعتیں ٹوٹ گئیں۔دوسرا سوال یہ کیا تھا کہ مخالف احباب رشتہ داروں سے کیسا سلوک کریں۔فرمایا۔نرمی اور نیکی تو انسان کفار سے بھی کر سکتا ہے اور کرنی چاہیے۔ہاں جن غلطیوں میں رشتہ دار یا احباب مبتلا ہوں ان میں ان کا ساتھ ہرگز نہیں دینا چاہیے۔دعاؤں میں بڑا اثر ہے اس لیے میں نیچری خیالات کا سخت مخالف ہوں۔خد اتعالیٰ کی قدرتوں کا انسان احاطہ نہیں کر سکتا جس قدر انسان کا نرم اور گداز دل خدا پر بھروسہ کرنے والا ہوگا اسی قدر دعاؤںپر امید ہوگی۔بدوں اس کے توجہ اور امید نہیں ہو سکتی۔خدا تعالیٰ پر توکّل اور بھروسہ کرنے میں بڑا مزہ اور آسائش ہے۔خدا تعالیٰ سے جس قدر تعلق کوئی پیدا کرتا ہے اور اس پر جس قدر ایمان کوئی لاتا ہے اسی قدر تاریکی اور مشکلات کے وقت وہ ان کا کفیل اور وکیل ہو جاتا ہے۔بڑی بڑی مصیبتوں میں جہاں بچنے کی کوئی امید اور رستگاری کی کوئی صورت نہیں ہوتی وہ بچ نکلتا ہے اور بَری ہوجاتا ہے۔خدا تعالیٰ کا قانون دوست اور دشمن کے ساتھ یکساں نہیں جس قدر کسی کا یقین خدا تعالیٰ پر ہے اسی قدر وہ راحت و آرام میں ہے۔درحقیقت مخلص مومن کا خدا ہی الگ ہوتا ہے اور جو لوگ اسباب پرست ہوتے ہیں ان کا خدا الگ ہوتا ہے۔جو اپنی طرف سے اسباب کو توڑ کر خدا کی طرف آتے ہیں ان پر وہ ایک نرالی تجلی سے ظہور کرتا ہے۔یہ یاد رکھو کہ یقین کی قوت جس قدر بڑھتی ہے اسی قدر استجابت دعا کا دروازہ زیادہ کھلتا جاتا ہے۔یقین کے ساتھ انسان بڑے بڑے مراحل طے کرتا ہے۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا صدق ہی تھا کہ جس نے آپ کو ہر مشکل کے وقت بچایا۔مخالفوں نے کس قدر منصوبے آپ کے خلاف کئے یہاں تک کہ آپ کو ہلاک کرنا چاہا اور تعاقب میں غارِ ثور تک بھی سراغ رساں جا پہنچے مگر خدا تعالیٰ پر جو سچا یقین آپ کو تھا اسی پوشیدہ ہاتھ نے آپ کو وہاں بھی بچا لیا۔حضرت ابو بکر نے کہا بھی کہ ہم ایسے موقع پر ہیںکہ اگر مخالف ذرا بھی نیچے نگاہ کریں تو ہم کو دیکھ لیں