ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 294 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 294

کا اجتماع بالبداہت بتارہا ہے کہ اس وقت ایک آسمانی سلسلہ کی ضرورت ہے اور اگر خدا اس وقت کوئی سلسلہ قائم نہ کرتاتو پھر خدا پر اعتراض ہوتا مگر خدا کاشکر ہے کہ اس نے وقت پر ہماری دستگیری کی اور اس سلسلہ کو اپنی تائیدوں کے ساتھ قائم کیا۔فَالْـحَمْدُلِلّٰہِ عَلٰی ذٰلِکَ۔۱ ۱۲؍ستمبر ۱۹۰۱ء مولوی جان محمد صاحب مدرس ڈسکہ نے سوال کیا کہ حضور آپ کی بیعت کرنے کے بعد پہلی بیعت اگر کسی سے کی ہو وہ قائم رہتی ہے یا نہیں؟حضرت حجۃ اللہ نے فرمایا۔جب انسان میرے ہاتھ پر بیعت توبہ کرتا ہے تو پہلی ساری بیعتیں ٹوٹ جاتی ہیں۔انسان دو کشتیوں میں کبھی پاؤں نہیں رکھ سکتا۔اگر کسی کا مُرشد اب زندہ بھی ہو تب بھی وہ حقائق اور معارف ظاہر نہ کرے گا جو خدا تعالیٰ یہاں ظاہر کر رہا ہے۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے ساری بیعتوں کو توڑ ڈالا ہے صرف مسیح موعود ہی کی بیعت کو قائم رکھا ہے جو خاتم الخلفاء ہو کر آیا ہے۔ہندوستان میں جس قدر گدیاں اور مشایخ اور مُرشد ہیں سب سے ہمارا اختلاف ہے۔بیعت دینی سلسلوں میں ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ قائم کرتا ہے۔ان لوگوں کا ہمارے مسائل میں اختلاف ہے اگر ان میں سے کسی کو شک ہو کہ وہ حق پر ہیں تو ہمارے ساتھ فیصلہ کر لیں۔قرآن شریف کو حَکَم ٹھہرائیں۔اصل یہ ہے کہ اس وقت سب گدیاں ایک مُردہ کی حیثیت رکھتی ہیں اور زندگی صرف اسی سلسلہ میں ہے جو خدا نے میرے ہاتھ پر قائم کیا ہے۔اب کیسا نادان ہوگا وہ شخص جو زندوں کو چھوڑ کر مُردوں میں زندگی طلب کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی چاہا تھا کہ ایک زمانہ فیج اَعْوَج کا ہو اور اس کے بعد ہدایت کا بہت بڑا زمانہ آوے۔چنانچہ ہدایت کے دو ہی بڑے زمانے ہیں جو دراصل ایک ہی ہیں مگر ان کے درمیان ایک وقفہ ہے اس لیے دو سمجھے جاتے ہیں۔ایک وہ زمانہ جو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تھا اور دوسرا مسیح موعود کا زمانہ اور مسیح موعود کے زمانہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا