ملفوظات (جلد 2) — Page 280
کرتا ہے مگر اسے جذبات کہاں کے کہاں لے جاتے ہیں اور باوجود عقل اور سمجھ کے بے اختیار سا ہو کر فسق وفجور میں گرتا ہے۔یہ کشاکش کیا ہے۔خدا نے انسان کو اس مسافرخانہ میں بڑے بڑے قویٰ کے ساتھ بھیجا ہے۔چاہیے کہ یہ ان سب سے کام لے۔۱ الحکم کی کسی گزشتہ اشاعت میں اس کھلی چٹھی کاخلاصہ شائع کیا گیا ہے جو امریکہ کے مشہور مفتری الیاس ڈاکٹر ڈوئی کے نام مقابلہ کے لئے لکھی گئی ہے۔اس میں حضرت حجۃ اللہ کا ایک یہ فقرہ بھی تھا کہ میں خدا سے ہوں اور مسیح مجھ سے ہے۔اس پر ۳؍ ستمبر ۱۹۰۱ء کی شام کو بعد نماز مغرب جب حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے معمول کے موافق مسجد میں تشریف رکھتے تھے جناب میرزا نیاز بیگ صاحب کلانوری نے دریافت کیا کہ اس کا کیا مطلب ہے۔فرمایا۔مسیح مجھ سے ہے اس کے یہ معنے ہیں کہ مسیح کی صداقت مجھ سے ثابت ہوئی ہے اور اس لحاظ سے گویا مسیح کا نیا جنم ہوا ہے۔۲ ۱۰؍ستمبر۱۹۰۱ء غیروں کے پیچھے نماز سید عبد اللہ صاحب عرب نے سوال کیا کہ میں اپنے ملک عرب میں جاتا ہوں وہاں میں ان لوگوں کے پیچھے نماز پڑھوں یا نہ پڑھوں؟ فرمایا۔مصدقین کے سوا کسی کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔عرب صاحب نے عرض کیا وہ لوگ حضورکے حالات سے واقف نہیں ہیں اور ان کو تبلیغ نہیں ہوئی۔فرمایا۔ان کو پہلے تبلیغ کر دینا پھر یا وہ مصدّق ہو جائیں گے یا مکذّب۔