ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 278 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 278

فلسفی اور نبی فرمایا۔فلسفی اور نبی میں یہ فرق ہے کہ فلسفی کہتا ہے کہ خدا ہونا چاہیے نبی کہتا ہے خدا ہے۔فلسفی کہتا ہے کہ دلائل ایسے موجود ہیں کہ خدا کا وجود ضرور ہونا چاہیے۔نبی کہتا ہے کہ میںنے خود خدا سے کلام کیا ہے اور مجھے اس نے بھیجا ہے اور میں اس کی طرف سے اس کو دیکھ کر آیا ہوں۔۱ انبیاء کی کامیابی کا راز نبی بخش بٹالوی کا ذکر آیا ہے کہ اس نے مصلح ہونے کا دعویٰ کیا اور ایک اخبار نکالنے کا ارادہ کیا ہے۔اس پر حضرت اقدسؑ نے فرمایا۔بعض لوگ انبیاء اور مرسلین من اللہ کی کامیابیوں کو دیکھ کر یہ خیال کرتے ہیں کہ شاید ان لوگوں کی کامیابی بسبب ان کی لفّاظیوں اور قوت بیانیوں اور فصاحتوں اور بلاغتوں کے ہے۔آؤ ہم بھی ایسا ہی کریں اور اپنا سلسلہ جمالیں۔مگر وہ لوگ غلطی کھاتے ہیں۔انبیاء کی کامیابی بسبب اس تعلق کے ہوتی ہے جو ان کا خدا کے ساتھ ہوتا ہے۔آدم سے لے کر آج تک کسی کو تقویٰ کے سوا فتح نہیں ہوئی۔فتح کی کنجی خدا کے ہاتھ میں ہے۔فتح صرف اسی کو ہو سکتی ہے جس کا بحر تقویٰ میں سب سے بڑھ کر ہے۔تقویٰ کا پودا قائم ہو جائے تو اس کے ساتھ زمین وآسمان الٹ سکتے ہیں۔(ڈائری) فرمایا۔مسلمانوں پر افسوس ہے کہ انہوں نے یہ تو مان لیا کہ آخری زمانہ کے یہود بھی مسلمان ہوں گے۔پر یہ نہ مانا کہ آخری زمانہ کا مسیح بھی انہیں میں سے ہو گا گویا ان کے نزدیک امت محمدیہ میں صرف شر ہی رہ گیا ہے اور خیر کچھ بھی نہیں۔کسی نے ذکر کیا کہ نبی بخش بٹالوی کہتا ہے کہ مولوی عبد الکریم صاحب اپنے خطبوں میں مرزا صاحب کے متعلق بڑا غلو کرتے ہیں اور اسی پر مرزا صاحب نے یہ سمجھ لیا کہ ہمارا درجہ بڑا ہے۔فرمایا۔براہین احمدیہ کے زمانہ میں مولوی عبدالکریم صاحب کہاں تھے اس میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ اور اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ تَوْحِیْدِیْ وَتَفْرِیْدِیْ اور تیرا مخالف جہنم میںگرے گا وغیرہ مولوی عبد الکریم صاحب اس کے مقابل میں کیا