ملفوظات (جلد 2) — Page 268
اس خیال سے کہ وہ واجب الرحم سمجھا جاوے یا اس کی آسودہ حالی کا حال کسی پر ظاہر نہ ہو ایسا شخص گناہ کرتا ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم کو چھپانا چاہتا ہے اور نفاق سے کام لیتا ہے دھوکہ دیتا ہے اور مغالطہ میں ڈالنا چاہتا ہے یہ مومن کی شان سے بعید ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مذہب مشترک تھا۔آپ کو جو ملتا تھا پہن لیتے تھے اعراض نہ کرتے تھے جو کپڑا پیش کیا جاوے اسے قبول کرلیتے تھے لیکن آپ کے بعد بعض لوگوں نے اسی میں تواضع دیکھی کہ رہبانیت کی جزو ملادی۔بعض درویشوں کو دیکھا گیا ہے کہ گوشت میں خاک ڈال کر کھاتے تھے۔ایک درویش کے پاس کوئی شخص گیا اس نے کہا کہ اس کو کھانا کھلا دو اس شخص نے اصرار کیا کہ میں تو آپ کے ساتھ ہی کھائوں گا آخر جب وہ اس درویش کے ساتھ کھانے بیٹھا تو اس کے لئے نیم کے گولے طیار کرکے آگے رکھے گئے اس قسم کے امور بعض لوگ اختیار کرتے ہیں اور غرض یہ ہوتی ہے کہ لوگوں کو اپنے باکمال ہونے کا یقین دلائیں مگر اسلام ایسی باتوں کو کمال میں داخل نہیں کرتا۔اسلام کا کمال تو تقویٰ ہے کہ جس سے ولایت ملتی ہے جس سے فرشتے کلام کرتے ہیں خدا تعالیٰ بشارتیں دیتا ہے ہم اس قسم کی تعلیم نہیں دیتے کیونکہ اسلام کی تعلیم کے منشا کے خلاف ہے قرآن شریف تو كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ (المؤمنون : ۵۲) کی تعلیم د ے اور یہ لوگ طیب عمدہ چیز میں خاک ڈال کر غیر طیب بنا دیں۔اس قسم کے مذاہب اسلام کے بہت عرصہ بعد پیدا ہوئے ہیں یہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اضافہ کرتے ہیں ان کو اسلام سے اور قرآن کریم سے کوئی تعلق نہیں ہوتا یہ خود اپنی شریعت الگ قائم کرتے ہیں۔میں اس کو سخت حقارت اور نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں ہمارے لئے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اسوہ حسنہ ہیں ہماری بھلائی اور خوبی یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو آپؐکے نقش قدم پر چلیں اور اس کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھائیں۔عورتوں سے حُسنِ معاشرت اسی طرح پر عورتوں اور بچوں کے ساتھ تعلقات اور معاشرت میں لوگوں نے غلطیاں کھائی ہیں اور جادۂ مستقیم سے بہک گئے ہیں قرآن شریف میں لکھا ہے کہ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ( النساء : ۲۰)مگر اب اس کے خلاف