ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 262 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 262

یادرکھو قانون قدرت اور سنّت اﷲ اس معاملہ میں یہی ہے جو میں پیش کرتا ہوں وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِيْلًا(الاحزاب : ۶۳) انسانی خیالات انسانی تاویلات اور قیاسات بالکل صحیح اور قطعی اور یقینی نہیں ہوسکتے ان میں غلطی کا احتمال ہے۔ایک امر کے واقع ہونے سے پہلے جو رائے قائم کی جاوے اس پر قطعیت کا حکم نہیں لگاسکتے لیکن جب وقت آتا ہے تو سارے پردے کھل جاتے ہیں یہی وجہ تھی کہ آنے والے کا نام حَکَم رکھا گیا جس سے صاف پایا جاتا ہے کہ اس وقت اختلاف عام ہوگا تب ہی تو اس کا نام حَکَم رکھا گیا پس سچی بات وہی ہوسکتی ہے جو حَکَم کے منہ سے نکلے۔نواب صدیق حسن خاں نے لکھا ہے کہ وہ قرآن کی طرف توجہ کرے گا کیونکہ حدیث کو تو لوگوں کا ہاتھ لگا ہوا ہے مگر قرآن شریف خد اتعالیٰ کا لَا تَبْدِيْلَ کلام ہے جس پر کسی انسانی ہاتھ نے کوئی کام نہیں کیا۔اب جو خدا تعالیٰ کا کلام جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اور جو پہلا اور ابدی معجزہ تھا اس کو پیش کیا جاتا ہے تو اس کے مقابلہ میں اقوال پیش کئے جاتے ہیں کیا یہ تعجب اور افسوس کی بات نہیں؟ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ آپ خدا کے فضل سے سمجھ دار اور فہیم معلوم ہوتے ہیں۔کیا حدیث کا وہ مرتبہ ہو سکتا ہے جو قرآن شریف کا ہے؟ اگر حدیث کا وہی مرتبہ ہے جو قرآن شریف کا ہے تو پھر نعوذباﷲ ماننا پڑے گا کہ آپؐنے اپنا فرض ادا نہ کیا کیونکہ قرآن شریف کا اہتمام تو آپ نے کیا مگر حدیث کا کوئی اہتمام نہ ہوا اور نہ آپؐنے اپنے سامنے کبھی حدیث کو لکھوایا۔کیا کوئی مسلمان یہ ماننے کے لئے طیار ہو سکتا ہے جو کہے کہ ہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا فرض رسالت ادا نہ کیا؟ یہ مسلمان کا کام تو ہو نہیں سکتا بلکہ بڑے بے دین اور ملحد کا کام ہو گا۔پھر سوچ کر دیکھو کہ کیا حدیث کو آپ نے اپنے سامنے مرتّب کروایا یا قرآن شریف کو؟ صاف ظاہر ہے کہ قرآن شریف ہی کو آپ نے اپنے بعد چھوڑا کیونکہ تعلیم قرآن ہی تھا ہاں یہ سچ ہے کہ آپ نے اپنی سنّت کو بھی قرآن کے ساتھ رکھا اور اصل یہی ہے کہ نبی دو ہی باتیں لے کر آتے ہیں۔کتاب اور سنت۔حدیث ان دونوں سے الگ شے ہے اور یہ دونوں حدیث کی محتاج نہیں ہیں۔ہاں یہ ہم مانتے ہیں کہ ادنیٰ درجہ کی حدیث پر بھی عمل کرلینا چاہیے