ملفوظات (جلد 2) — Page 261
غرض ہم دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ بار باراگر کچھ پیش کرتے ہیں تو حدیث کا ذخیرہ جس کو خود یہ ظن کے درجہ سے آگے نہیں بڑھاتے ان کو معلوم نہیں کہ ایک وقت آئے گا کہ ان کے رطب و یا بس امور پر لوگ ہنسی کریں گے۔یہ ہر ایک طالب حق کا حق ہے کہ وہ ہم سے ہمارے دعویٰ کا ثبوت مانگے۔اس کے لئے ہم و ہی پیش کرتے ہیںجو نبیوں نے پیش کیا۔نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ، عقلی دلائل یعنی موجودہ ضرورتیں جو مصلح کے لئے مستدعی ہیں۔پھر وہ نشانات جو خد انے میرے ہاتھ پر ظاہر کئے میں نے ایک نقشہ مرتب کر دیا ہے۔اس میں ڈیڑھ سو کے قریب نشانات دئیے ہیں۔جن کے گواہ ایک نوع سے کروڑوں انسان ہیں۔بیہودہ باتیں پیش کرنا سعادت مند کا کام نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی لئے فرمایا تھا کہ وہ حَکَم ہو کر آئے گا۔اس کا فیصلہ منظور کرو۔جن لوگوں کے دل میں شرارت ہوتی ہے وہ چونکہ ماننا نہیں چاہتے اس لئے بیہودہ حجتیں اور اعتراض پیش کرتے رہتے ہیں مگر وہ یادرکھیں کہ آخر خدا تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق زور آور حملوں سے میری سچائی ظاہر کرے گا۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر میں افترا کرتا تو وہ مجھے فی الفور ہلاک کر دیتا مگر میرا سارا کاروبار اس کا اپنا کاروبار ہے اور میں اسی کی طرف سے آیا ہوں۔میری تکذیب اس کی تکذیب ہے اس لئے وہ خود میری سچائی ظاہر کردے گا۔پیشگوئیوں کو ظاہر پر حمل کرنے کا نتیجہ جو لوگ پیشگوئیوں کی حقیقت کو نہ سمجھ کر مجاز اور استعارہ کو ظاہر پر حمل کرنا چاہتے ہیں آخر ان کو انکار کرنا پڑتا ہے جیسے یہودیوں کو یہی مصیبت پیش آئی اور اب عیسائیوں کو آرہی ہے اور اس کی آمد ثانی کے متعلق اکثر یہی سمجھ بیٹھے ہیں کہ کلیسیاہی سے مراد تھی۔سارے نشانات عام لوگوں کے خیال کے موافق کبھی پورے نہیں ہوا کرتے ہیں تو پھر انبیاء کے وقت اختلاف اور انکار کیوں ہو؟ یہودیوں سے پوچھو کہ کیا وہ مانتے ہیں کہ مسیح کے آنے کے وقت سارے نشانات پورے ہو چکے تھے؟ نہیں۔