ملفوظات (جلد 2) — Page 260
انجیل میں آپ کے لئے رکھے گئے تھے پورے ہو گئے تھے؟ خدا کے واسطے سوچو جواب دو۔اگر وہ ساری روائتیں جو ان میں چلی آتی تھیں اور وہ ساری نشانیاں جو ان کی کتابوں میں پائی جاتی تھیں پوری ہوگئی تھیں پھر یہودیوں کو کیا ہو گیا تھا جو انہوں نے انکار کر دیا۔کبھی ساری نشانیاں پوری نہیں ہوتیں کیونکہ ایسی بہت سی ہوتی ہیں جو خود تجویز کر لی جاتی ہیں اور بہت سی ایسی ہوتی ہیں جو کچھ اور مطلب و مفہوم رکھتی ہیں۔جب سب راستبازوں کے وقت ان کا انکار کیا گیا اور یہی عذر پیش کیا گیا کہ نشانات پورے نہیں ہوئے تو اس وقت اگر انکار کیا گیا تو اسی سنّت پر انہوں نے قدم مارا ہے میں کسی کی زبانِ انکار تو بند نہیں کر سکتا مگر میں یہ کہتا ہوں کہ وہ میرے عذرات کو سن کر جواب دیں یونہی باتیں بنانا تو طریق تقویٰ کے خلاف ہے۔اس سلسلہ کو منہاج نبوت پر آزمائیں منہاج نبوت پر اس سلسلہ کو آزمائیں اور پھر دیکھیں کہ حق کس کے ساتھ ہے خیالی اصولوں اور تجویزوں سے کچھ نہیں بنتا اور نہ میں اپنی تصدیق خیالی باتوں سے کرتا ہوں۔میں اپنے دعویٰ کو منہاج نبوت کے معیار پر پیش کرتا ہوں پھر کیا وجہ ہے کہ اسی اصول پر اس کی سچائی کی آزمائش نہ کی جاوے۔جو دل کھول کر میری باتیں سنیں گے میں یقین رکھتا ہوں کہ فائدہ اٹھاویں گے اور مان لیں گے لیکن جو دل میں بخل اور کینہ رکھتے ہیں ان کو میری باتیں کوئی فائدہ نہ پہنچا سکیں گی ان کی تو اَحول کی سی مثال ہے جو ایک کے دو دیکھتا ہے اس کو خواہ کسی قدر دلائل دئیے جاویں کہ دو نہیں ایک ہی ہے وہ تسلیم ہی نہیں کرے گا۔کہتے ہیں کہ اَحول خدمت گار تھا آقا نے کہا کہ اندر سے آئینہ لے آئو وہ گیا اور واپس آکر کہا کہ اندر تو آئینے پڑے ہیں کونسا لے آئوں آقا نے کہا کہ ایک ہی ہے دو نہیں! اَحول نے کہا تو کیا میں جھوٹا ہوں؟ آقا نے کہا کہ اچھا ایک کو توڑ دے جب توڑا گیا تو اسے معلوم ہوا کہ درحقیقت میری غلطی تھی مگر اب ان اَحولوں کا جو میرے مقابل ہیں کیا جواب دوں؟۱