ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 258 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 258

یادرکھنا چاہیے کہ احادیث اس درجہ پر نہیں ہیں جو قرآن شریف کا درجہ ہے اور نہ ہم احادیث کو کلام اﷲ کا درجہ دے سکتے ہیں احادیث تیسرے درجہ پر ہیں اور بالاتفاق مانی ہوئی بات یہ ہے کہ وہ ظن کے لئے مفید ہیں اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَيْـًٔا( النّجم : ۲۹)۔اصل میں تین چیزیں ہیں قرآن، سنّت اور احادیث۔قرآن خدا تعالیٰ کی پاک وحی ہے جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اور سنّت وہ اسوہ حسنہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وحی الٰہی کے موافق قائم کر کے دکھایا۔قرآن اور سنّت یہ دونوں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے کام تھے کہ ان کو پہنچادیا جاوے اور یہی وجہ ہے کہ جب تک احادیث جمع نہیں ہوئی تھیں اس وقت تک بھی شعائرِ اسلام کی بجا آوری برابر ہوتی رہی ہے۔اب دھوکا یہ لگا ہے کہ یہ لوگ احادیث کو اور سنّت کو ایک کر دیتے ہیں حالانکہ یہ ایک چیز نہیں ہیں۔پس احادیث کو جب تک قرآن اور سنّت کے معیار پر پرکھ نہ لیں ہم کسی درجہ پر رکھ نہیں سکتے لیکن یہ ہمارا مذہب ہے کہ ادنیٰ سے ادنیٰ حدیث بھی جو اصول حدیث کی رو سے کیسی ہی کمزور او رضعیف ہو لیکن اگر قرآن یا سنّت کے خلاف نہیں تو وہ واجب العمل ہے۔مگر ہمارے مخالف یہ کہتے ہیں کہ نہیں محدثین کے اصول تنقید کی رو سے جو صحیح ثابت ہووہ خود قرآن اور سنّت کی کیسی ہی مخالف ہو اس کو مان لینا چاہیے۔اب عقل مند غور کریں اور خد اکا خوف دل میں رکھ کر فکر کریں کہ حق کس کے ساتھ ہے، ان کے یا میرے؟ میں خدا کے کلام او راس کے پاک رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو مقدم کرتا ہوں اور یہ ان لوگوں کی باتوں اور خیالی اصولوں کو مقدم کرتے ہیں جنہوں نے کوئی دعویٰ نہیں کیا کہ یہ اصول تنقید احادیث کے ہم نے خدا کی وحی اور الہام سے قائم کئے ہیں۔اگر یہی بات ہے کہ احادیث کے لئے قرآن اور سنّت کے علاوہ کوئی اور معیار ہے جو محض اپنی دانش اور عقل سے قائم کیا گیا ہے تو پھر میں پوچھتا ہوں کہ کیا وجہ ہے؟ سنّیوں کی پیش کردہ احادیث یا شیعوں کی پیش کردہ احادیث صحیح نہ مانی جاویں۔کیوں ایک فریق دوسرے کو ردّ کرتا ہے۔؟ اس کا جواب ہمیں کوئی کچھ نہیں دیتا۔ان ساری باتوں سے بڑھ کر اور ایک بات ہے کہ مولوی محمد حسین صاحب نے