ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 18 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 18

میں پھر رحـمٰن ہے پھر رحیم ہے اور مالک یوم الدین ہے۔اب اِيَّاكَ نَعْبُدُ جو کہتا ہے تو گویا اس عبادت میں وہی ربوبیت ،رحمانیت،رحیمیت، مالکیت صفات کا پَرتَو انسان کو اپنے اندر لینا چاہیے۔کمال عابد انسان کا یہی ہے کہ تَـخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللّٰہ اللہ تعالیٰ کے اخلاق میں رنگین ہو جاوے اور جب تک اس مرتبہ تک نہ پہنچ جائے نہ تھکے نہ ہارے۔اس کے بعد خود ایک کشش اور جذب پیدا ہو جاتا ہے جو عبادتِ الٰہی کی طرف اسے لے جاتا ہے۔اور وہ حالت اس پر وارد ہو جاتی ہے جو يَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ(النحل:۵۱) کی ہوتی ہے۔۱ ۳۰؍ اکتوبر ۱۹۰۰ ء حسبِ معمول حضرت اقدس امام ہمام علیہ الصلوٰۃ السلام سیر کو تشریف لے گئے۔راستہ میں آپ نے فرمایاکہ نبوت اور قرآن شریف کی کلید میرے دعویٰ کا فہم کلید ہے نبوت اور قرآن شریف کی۔جو شخص میرے دعویٰ کو سمجھ لے گا،نبوت کی حقیقت اور قرآن شریف کے فہم پر اس کو اطلاع دی جاوے گی اور جو میرے دعویٰ کو نہیں سمجھتا۔اس کو قرآن شریف پر اور رسالت پر پورا یقین نہیں ہو سکتا۔اتّباعِ امام پھر فرمایا۔قرآن شریف میں جو یہ آیت آئی ہے اَفَلَا يَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ (الغاشیۃ:۱۸ )یہ آیت نبوت اور امامت کے مسئلہ کو حل کرنے کے واسطے بڑی معاون ہے۔اونٹ کے عربی زبان میں ہزار کے قریب نام ہیں اور پھر ان ناموں میں سے اِبِل کے لفظ کو جو لیا گیا ہے۔اس میں کیا سِرّ ہے؟ کیوں! اِلَی الْـجَمَل بھی تو ہو سکتا تھا؟ اصل بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جَـمَل ایک اونٹ کو کہتے ہیں اور اِبِل اسم جمع ہے۔یہاں اللہ تعالیٰ کو چونکہ تمدنی اور اجماعی حالت کا دکھانا مقصود تھا اور جَـمَل میں جو ایک اونٹ پر بولا جاتا ہے یہ فائدہ حاصل نہ ہوتاتھا،اس لیے اِبِل کے لفظ کو پسند فرمایا۔اونٹوں میں ایک دوسرے کی پیروی اور اطاعت ۱ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۹ مورخہ ۲۴؍ مئی ۱۹۰۱ ء صفحہ ۴