ملفوظات (جلد 2) — Page 225
فرمایا۔یورپین لوگ ایک قوم سے معاہدہ کرتے ہیں۔اس کی ترکیب عبارت ایسی رکھ دیتے ہیں کہ دراز عرصہ کے بعد بھی نئی ضرورتوں اور واقعات کے پیش آنے پر بھی اس میں استدلال اور استنباط کا سامان موجود ہوتا ہے۔ایسا ہی قرآن شریف میں آئندہ کی ضرورتوں کے مواد اور سامان موجود ہیں۔غَضِّ بصر فرمایا۔مومن کو نہیں چاہیے کہ دریدہ دہن بنے یا بے محابہ اپنی آنکھ کو ہر طرف اٹھائے پھرے، بلکہ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ (النّور:۳۱) پر عمل کر کے نظر کو نیچی رکھنا چاہیےاور بدنظری کے اسباب سے بچنا چاہیے۔تقلید کے متعلق مذہب ایک دفعہ ایک واعظ ایسے طرز پر حضرت کے سامنے گفتگو کرتا تھا کہ گویا اس کے نزدیک حضرت بھی فرقہ وہابیہ کے طرف دار ہیں اور اپنے تئیں بار بار حنفی اور وہابیوں کا دشمن ظاہر کرتا تھا اور کہتا تھا کہ حق کا طالب ہوں۔اس پر حضرت نے فرمایا۔اگر کوئی محبت اور آہستگی سے ہماری باتیں سنے تو ہم بڑی محبت کرنے والے ہیں اور قرآن اور حدیث کے مطابق ہم فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔اگر کوئی شخص اس طرح فیصلہ کرنا چاہے کہ جو امر قرآن شریف اور احادیث صحیحہ کے مطابق ہو اسے قبول کرلے گا اور جو ان کے برخلاف ہو اسے ردّ کردے گا تو یہ امر ہمارا عین سرور ،عین مدعا ہے اور عین آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ہمارا مذہب وہابیوںکے بر خلاف ہے۔ہمارے نزدیک تقلید کو چھوڑنا ایک اباحت ہے کیونکہ ہرایک شخص مجتہد نہیں ہے۔ذرا سا علم ہو نے سے کوئی متابعت کے لائق نہیں ہو جاتا۔کیا وہ اس لائق ہے کہ سارے متّقی اور تزکیہ کرنے والوں کی تابعداری سے آزاد ہو جائے۔قرآن شریف کے اسرار سوائے مطہر اور پاک لوگوں کے اور کسی پر نہیں کھولے جاتے۔ہمارے ہاں جو آتا ہے اسے پہلے ایک حنفیت کا رنگ چڑھانا پڑتا ہے۔میرے خیال میں یہ چاروں مذہب اللہ تعالیٰ کا فضل ہیں اور اسلام کے واسطے ایک چار دیواری۔اللہ تعالیٰ نے اسلام کی حمایت کے واسطے ایسے اعلیٰ لوگ پیدا کیے جو نہایت متّقی اورصاحب تزکیہ تھے۔آجکل کے لوگ جو بگڑے ہیں اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ اماموں کی متابعت چھوڑ دی گئی ہے۔خدا تعالیٰ کو دو قسم کے لوگ پیارے ہیں۔اوّل وہ جن کو اللہ تعالیٰ نے خود